نیپال میں جرائم میں ملوث پاکستانی خواتین کے نیٹ ورک کی تلاش
کاٹھمنڈو، 21 اپریل (ہ س)۔ ہندوستانی سرحد سے متصل روپندیہی اور کپل وستو کے مختلف مقامات پر سونے اور چاندی کی دکانوں سے گاہک بن کر چوری کرنے والی پاکستانی خواتین کی گرفتاری کے بعد نیپال پولیس نے ان کے منظم نیٹ ورک کی تلاش شروع کردی ہے۔پولیس اس بات کی
Nepal-pakistani-group-active-i


کاٹھمنڈو، 21 اپریل (ہ س)۔ ہندوستانی سرحد سے متصل روپندیہی اور کپل وستو کے مختلف مقامات پر سونے اور چاندی کی دکانوں سے گاہک بن کر چوری کرنے والی پاکستانی خواتین کی گرفتاری کے بعد نیپال پولیس نے ان کے منظم نیٹ ورک کی تلاش شروع کردی ہے۔پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ وہ نیپال کیسے اور کس مقصد کے لیے آئیں ۔حالانکہ وہ سیاحتی ویزے پر آئی تھیں، لیکن مقامی سطح تک پہنچ کر اس طرح کے سنگین جرائم میں ملوث ہونا ایک پیچیدہ سوال ہے۔ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک بڑا گینگ ہو سکتا ہے اور کئی مقامات پر چوکسی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کپل وستو سے پکڑی گئی ان دونوں خواتین کے شوہر بھی نیپال سے پاکستان واپسی کے دوران ایئرپورٹ سے گرفتار کر لئے گئے ہیں، جس سے پولیس کو اس منظم نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کی امید ہے۔

پولیس نے دو پاکستانی شہریوں، 23 سالہ افان علی اور 44 سالہ صفی الرحمان کو حراست میں لیا، جو تریبھون انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بیرون ملک روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ بالترتیب 20 سالہ بیبی کلثوم اور 41 سالہ سروانہ رحمان کے شوہر ہیں، جنہیں ایک ہفتہ قبل کپل وستو سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سکیورٹی کو کلیئر کرنے اور بورڈنگ پاس حاصل کرنے کے بعد ایئر عربیہ کی پرواز میں سوار ہونے والے تھے۔ پچھلے ہفتے ہی کپل وستو کے تولیہوا اور چندروٹا بازاروں میں دو خواتین کو زیورات کی چوری اور دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نیپال آئی تھیں، جس پر پولیس نے ان کی تلاش تیز کردی۔

کپل وستو ڈسٹرکٹ پولیس آفس کے ترجمان ڈی ایس پی رپیندر کمار سنگھ کے مطابق، مختلف یونٹوں کو متحرک کیا گیا اور دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں فی الحال تفتیش کے لیے کپل وستو لایا جا رہا ہے۔ آٹھ روزہ عدالتی ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد مزید تفتیش جاری ہے۔

یہ دونوں خواتین شام کو چندروٹا کے شیوراج-5 میں واقع سریندر جیولری شاپ پہنچیں۔ دکاندار گمراہ کرکے انہوں نے 38 لال (تقریباً 4.5 گرام) سونے کا جھمکا چوری کر لیا۔ انہوں نے دکان سے نکلتے وقت ماسک اور برقع پہن کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔

اسی دن تولیہوا میں واقع باگیشوری جیولرس میں بھی انہوں نے دھوکہ دہی کی ۔ سونا بدلنے کے بہانے وہ ایک تولہ سے زائد مالیت کے زیورات لے کر فرار ہوگئیں۔ بعد ازاں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کے ذریعہ دیئے گئے زیورات میں صرف 7 فیصد ہی اصلی سونا تھا۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ انہوں نے بٹول کے علاقے یوگی کٹی میں زیورات کی دکان پر بھی چوری کی واردات کی۔ پولیس کو شواہد ملے ہیں کہ ان تمام وارداتوں میں وہی دو خواتین ملوث تھیں۔

کپل وستو کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنتوش اچاریہ کے مطابق، خواتین کی چوری کے دیگر واقعات کا بھی انکشاف ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس نے بین الاقوامی منظم گینگ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے تفتیش کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا،”وہ سیاحتی ویزے پر آئی تھیں۔ اب اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ کسی منظم گروپ کے حصے کے طور پر آئی تھیں یا اکیلے کام کر رہی تھیں۔“

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande