
ڈیجیٹل گورننس اب محض معاون نظام نہیں بلکہ شفاف، مؤثر اور جوابدہ عوامی خدمات کا ذریعہ: چیف سکریٹری
جموں، 21 اپریل (ہ س)۔ جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اٹل ڈلو نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل گورننس اب محض معاون نظام نہیں بلکہ شفاف، مؤثر اور جوابدہ عوامی خدمات کی فراہمی کی بنیادی ستون بن چکی ہے۔ وہ کنونشن سینٹر میں وزارتِ الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے تحت نیشنل انفارمیٹکس سینٹر اور این آئی سی ایس آئی کے اشتراک سے منعقدہ ’ٹیک سکشَم‘ ورکشاپ سے خطاب کر رہے تھے۔
چیف سکریٹری نے کہا کہ حکومت ’ہول آف گورنمنٹ‘ اپروچ اپناتے ہوئے مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی اور ڈیجیٹل انضمام کو فروغ دے رہی ہے تاکہ عوام کو تیز اور بلا رکاوٹ خدمات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خطے کی جغرافیائی رکاوٹوں کو کم کرنے، خدمات کی فراہمی میں تیزی لانے اور بدعنوانی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل نظام صارف دوست اور مقامی زبانوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ ہر شہری اس سے فائدہ اٹھا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ منظم ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کی بنیاد بنے گا، جس سے بہتر طرز حکمرانی ممکن ہوگی۔ اٹل ڈلو نے سائبر سیکورٹی کے سخت نفاذ اور تمام محکموں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مؤثر منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی، جبکہ سرکاری عملے کی مسلسل تربیت اور اداروں کے درمیان اشتراک کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئی آئی ٹی جموں میں مصنوعی ذہانت کا مرکزِ امتیاز قائم کیا جائے گا، جبکہ جموں اور سری نگر میں آئی ٹی پارکس کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس موقع پر ریاستی الیکشن کمشنر شانت مانو، پرنسپل سکریٹری داخلہ چندرکر بھارتی، سکریٹری آئی ٹی ڈاکٹر پیوش سنگلا اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ ورکشاپ میں سائبر سکیورٹی و کلاؤڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔
ہندوستھان سماچار
--------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر