
نئی دہلی ،02اپریل (ہ س )۔
ہم حالیہ میڈیا رپورٹس کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ مولانا عبداللہ سالم چترویدی کو اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس (STF) نے گرفتار کیا اور ان کے ساتھ حراست کے دوران مبینہ بدسلوکی کی گئی۔ اس مبینہ واقعے سے قانونی طریقہ کار اور انسانی وقار کی پاسداری پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ جہاں مولانا عبداللہ سالم یا کسی بھی قسم کی نفرت انگیز تقریر کے مبینہ قابل اعتراض بیانات کی حمایت کسی صورت نہیں کی جا سکتی، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قانون کو منصفانہ اور درست طریقے سے نافذ کیا جائے۔ کسی بھی فرد کو، چاہے الزامات کچھ بھی ہوں، وقار، قانونی عمل کے مطابق انصاف اور کسی بھی قسم کے تشدد، ہراسانی یا بدسلوکی سے تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
جماعتِ اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ ہر حال میں قانون کی حکمرانی قائم رہنی چاہیے اور کسی بھی قانونی ضابطے سے انحراف اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ اسی طرح، قوانین کا امتیازی یا جزوی نفاذ بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو اسے سختی سے قانون کے دائرے میں ہی نمٹایا جانا چاہیے، اور حراست میں زیادتی کے کسی بھی الزام کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف ایسے طریقے سے عمل میں لایا جائے جو آئینی اقدار کا تحفظ کرے، فرد کی عزتِ نفس کی پاسداری کرے اور کسی بھی قسم کی من مانی سے بچا جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais