
نئی دہلی گجرات، 2 اپریل:(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے گجرات میں پارٹی کے لیڈروں اور کارکنان پر ہو رہے مظالم کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کو خط لکھ کر ان سے ملاقات کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں پنچایت اور نگر پالیکا انتخابات سے پہلے بڑے پیمانے پر ہمارے کارکنان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ 160 سے زیادہ کارکنان کو اب تک گرفتار کیا جا چکا ہے اور مزید 10 ہزار سے زیادہ کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی بڑھتی مقبولیت سے بی جے پی بری طرح بوکھلا گئی ہے۔ لیکن اس طرح کی گرفتاریاں اور غنڈہ گردی گجرات کے لوگ پسند نہیں کرتے، عوام اس کا جواب ضرور دیں گے۔اروند کیجریوال نے اپنے خط میں لکھا کہ گزشتہ 30 برسوں سے گجرات میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ بدعنوانی، ظلم اور جبر پر مبنی حکمرانی سے عوام بری طرح تنگ آ چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کانگریس کے ساتھ ملی بھگت کر کے گزشتہ 30 سال سے حکومت چلا رہی ہے، جس کی وجہ سے عوام کے پاس کوئی مضبوط متبادل نہیں تھا۔ عام آدمی پارٹی کی صورت میں پہلی بار ایک مضبوط متبادل سامنے آیا ہے۔ عوام جانتی ہے کہ یہ ایک بے خوف، ایماندار، محب وطن اور تعلیم یافتہ لوگوں کی جماعت ہے جو بی جے پی سے کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اسی وجہ سے گجرات میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اب یہ عام بحث ہے کہ بی جے پی جا رہی ہے اور آپ کی حکومت آنے والی ہے۔کیجریوال نے کہا کہ اسی وجہ سے بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کے خلاف سازش رچی ہے تاکہ اس کے زیادہ تر لیڈروں اور کارکنان کو گرفتار کر کے پارٹی کو ختم کر دیا جائے۔ اس سازش کے تحت گزشتہ تین مہینوں میں 160 سے زیادہ کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یکم اپریل کو گجرات پولیس نے پارٹی کے ریاستی صدر ایشودان گڑھوی کو بھی گرفتار کیا اور دیر رات چھوڑ دیا، جب وہ اپنے کارکنان کی غیر قانونی گرفتاریوں کی معلومات لینے تھانے گئے تھے۔ مقامی بلدیاتی انتخابات سے قبل ایسی کارروائیاں تیزی سے بڑھی ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ بی جے پی پولیس کے سہارے انتخابات جیتنا چاہتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ہونے والی گرفتاریوں کے پیچھے ایک مخصوص پیٹرن نظر آ رہا ہے۔ اس کے تحت کچھ غنڈے سڑک پر اسکوٹر یا موٹر سائیکل سے آ کر کارکنان کو روکتے ہیں، مارپیٹ اور گالی گلوچ کرتے ہیں، پھر کرائم برانچ کو فون کرتے ہیں جو چند منٹ میں پہنچ کر ہمارے کارکنان کو گرفتار کر لیتی ہے۔ حملہ آوروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ متاثرین پر دفعہ 307 (قتل کی کوشش) لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais