
۔فٹ انڈیا اب ایک عوامی تحریک بن چکی ہے: گیتا پھوگاٹ
نئی دہلی، 19 اپریل (ہ س)۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے وقف فٹ انڈیا ”سنڈیز آن سائیکل“ کا ایک خصوصی ایڈیشن اتوار کو دہلی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔اس میںخاتون پہلوان گیتاپھوگاٹ، مکے باز سویٹی بورا اور اداکارہ راگنی دویدی سمیت ایک ہزار سے زیادہ خواتین نے حصہ لیا۔
ہندوستان کی پہلی کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والی خاتون پہلوان گیتا پھوگاٹ نے کہا کہ آج مجھے بہت مزہ آیا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ بہت ساری نوجوان مائیں اپنے چھوٹے بچوں حتیٰ کہ بزرگ خواتین بھی میرے ساتھ سائیکل چلا رہی تھیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے فٹ انڈیا تحریک کا آغاز کیا تھا اور آج یہاں آکر مجھے احساس ہوا کہ یہ واقعی عوامی تحریک بن چکی ہے اور لوگ فٹ نس کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔
پورے ملک میں بیک وقت منعقد ہونے والے اس خصوصی ایڈیشن میں 2000 سے زائد مقامات پر لوگوں نے حصہ لیا۔ بڑے شہروں سے لے کر چھوٹے شہروں تک، بڑی تعداد میں خواتین نے سائیکل ریلیوں اور فٹنس سرگرمیوں میں حصہ لے کر جسمانی صحت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
خواتین کے لیے اس خصوصی پروگرام کی اہمیت پر سویٹی بورا نے کہا کہ خواتین خاندان کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر وہ صحت مند اور فٹ رہتی ہے ، تو نہ صرف اپنے خاندان کی بہتر دیکھ بھال کر سکتی ہے بلکہ اپنے کام کی جگہ میں تعاون دے کر ملک کی ترقی میں بھی شراکت داربن سکتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے کہ خواتین اس بات کو سمجھ رہی ہیں اور اپنی فٹنس کو سنجیدگی سے لے رہی ہیں۔
اداکارہ راگنی دویویدی نے کہا کہ خواتین میں سائیکلنگ اور فٹنس کے حوالے سے اتنا جوش و خروش دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ پہل ظاہر کرتی ہے کہ فٹنس آسان اور مزیدارہے اور اسے کہیں بھی، کبھی بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
صبح کا آغاز یوگ آسن، زومبا، رسی کود، ملکھمب اور رسی کشی جیسی سرگرمیوں سے ہوئی۔ فٹ انڈیا آئیکن ملند سومن کی موجودگی نے پروگرام کو مزید پ±رجوش بنا دیا۔ انہوں نے خواتین کو فٹنس چیلنجز بھی دیے اور ان کے ساتھ رسی کشی میں حصہ لیا۔
اس پروگرام کا مقصد خواتین کو سائیکلنگ کو ایک آسان ، پائیدار اور مو¿ثر فٹنس سرگرمی کے طور پر اپنانے کی ترغیب دینا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی فٹنس سرگرمیوں کے بعد خواتین نے انڈیا گیٹ کے اطراف سائیکلنگ کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد