ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ نے پانی پت کی صنعتوں کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا
پانی پت ، 19 اپریل (ہ س)۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے پانی پت کے کمبل برآمدی کاروبار کو دھچکا پہنچایا ہے ، جو پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات کی وجہ سے دباو¿ میں ہے۔ پانی پت میں قائم ایکسپورٹر ڈائمنڈ ایکسپورٹ کے ڈائریک
ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ نے پانی پت کی صنعتوں کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا


پانی پت ، 19 اپریل (ہ س)۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے پانی پت کے کمبل برآمدی کاروبار کو دھچکا پہنچایا ہے ، جو پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے عائد کردہ محصولات کی وجہ سے دباو¿ میں ہے۔ پانی پت میں قائم ایکسپورٹر ڈائمنڈ ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر سنیل ورما کا کہنا ہے کہ کمپنی کا سالانہ کمبل ایکسپورٹ ٹرن اوور تقریباً 600کروڑ روپے ہے، اور بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ کی مارکیٹوں کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ جنگ اب صنعت کے سالانہ کاروبار کو روک رہی ہے۔ منک کمبل اور دیگر مصنوعات سے بھرے 160 کے قریب کنٹینرز سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں ، جبکہ 450 کے قریب مختلف بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں۔ پانی پت کا کل سالانہ کاروبار تقریباً60 سے 80ہزار کروڑ ہے۔ جس میں تقریباً20ہزار کروڑ کا مال برآمد ہوتا ہے۔ پانی پت مشرق وسطیٰ ممالک کو منک کمبل اور نماز کی چڑائی ، تولئے برآمد کرتا ہے۔ اس کا سالانہ کاروبار 650کروڑ روپے ہے۔ جنگ کی وجہ سے نہ صرف کمبلوں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو اہے، بلکہ خریداروں کی ادائیگی بھی رک گئی ہے۔ ساتھ ہی خریداروں نے آرڈر بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ پانی پت چیمبر آف کامرس کے صدر ونود دھمیجا نے وضاحت کی کہ جنگ نے پانی پت کی برآمدات کو مکمل طور پر متاثر کر دیا ہے، کیونکہ پانی پت کے زیادہ تر ڈائی ہاو¿سز، جو تیل اور گیس پر چلتے تھے، بند ہونے کے دہانے پر ہیں۔ جنگ نے تیل اور گیس کی درآمدات کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے برآمدی لاگت میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، خریدار پہلے کی طرح اسی سطح پر سامان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گپتا ایکسپورٹ کے ڈائریکٹر رام نواس گپتا نے کہا کہ پانی پت کی زیادہ تر برآمدات مشرق وسطیٰ کی منڈیوں کے لیے ہوتی ہیں، جن میں ایران ، عراق ، یمن ، اردن اور شام شامل ہیں۔ تاہم جنگ کی وجہ سے خریدار آرڈرز منسوخ کر رہے ہیں ، پرانے آرڈر ہولڈ پر رکھے ہوئے ہیں اور ادائیگیاں بھی تعطل کا شکار ہیں۔ خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande