
نئی دہلی، 18 اپریل (ہ س)۔
خواتین ریزرویشن سے متعلق آئین (131 ویں ترمیم) بل لوک سبھا میں پاس ہونے میں ناکام ہونے کے بعد حکمراں این ڈی اے اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماو¿ں نے ہفتہ کو شدید حملوں کا تبادلہ کیا۔ جہاں حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اسے ملک کے لیے سیاہ دن قرار دیا، وہیں اپوزیشن جماعتوں نے اسے آئین کے دفاع کے لمحے کے طور پر منایا۔
مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رججو نے بل کی منظوری میں ناکامی پر کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی مخالفت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے اسے کانگریس اور اس کے اتحادیوں پرایسا کلنک بتایا جسے کبھی دھویا نہیں جاسکتا۔ رججو نے کہا کہ تاریخی بل جو پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں خواتین کے لیے نشستیں محفوظ کرے گا، سیاسی وجوہات کی بناءپر رک گیا ۔
بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے بھی اس واقعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر 2023 ایکٹ کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو آبادی کی بنیاد پر سیٹوں کی دوبارہ ترتیب بہت سی ریاستوں کو متاثر کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس اور تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن جنوبی ہندوستان کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر اناپورنا دیوی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ خواتین کے تحفظات کے خلاف رہی ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ خواتین کو ان کے حقوق حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو اس کی سیاسی قیمت چکانی پڑے گی۔
سماجی انصاف اور امپاورمنٹ کے وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کہا کہ اپوزیشن نے خواتین کو انصاف دلانے میں بہت بڑی غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی اور خواتین کے تحفظات کو یکجا کرنے کا مقصد نشستوں کی تعداد میں اضافہ اور خواتین کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے رہنما چراغ پاسوان نے کہا کہ یہ تجویز تمام ریاستوں کے لیے متوازن اور منصفانہ تھی، لیکن اپوزیشن نے جان بوجھ کر اس میں رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ خواتین کو ان کے حقوق ملیں۔
بی جے پی ایم پی کنگنا رناوت نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے لیکن انہیں وزیر اعظم مودی پر بھروسہ ہے اور یہ بل جلد یا بدیر منظور ہو جائے گا۔ دریں اثنا، بی جے پی ایم پی جگدمبیکا پال نے کہا کہ یہ صرف حد بندی کی مخالفت نہیں ہے، بلکہ 2029 تک پارلیمنٹ میں خواتین کی 33 فیصد نمائندگی کو روکنے کی کوشش ہے۔
راشٹریہ لوک مورچہ کے صدر اوپیندر کشواہا نے کہا کہ اپوزیشن نے اس بل کی منظوری میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور اسے خواتین کو تحفظات فراہم کرنے سے روک دیا۔ اس لیے این ڈی اے کی خواتین ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج ضروری ہے، کیونکہ بھارتی حکومت انہیں حصہ فراہم کرنا چاہتی تھی، لیکن اپوزیشن نے رکاوٹیں کھڑی کیں اور خواتین کے تحفظات پر عمل درآمد کو روک دیا۔
دوسری جانب اپوزیشن نے حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے آئین کا دفاع قرار دیا۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ ان کی پارٹی خواتین کے تحفظات کے خلاف نہیں ہے، لیکن حکومت نے جس طرح اسے حد بندی سے جوڑا ہے اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے اسے سیاسی حکمت عملی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن بل کو پاس ہونا چاہیے تھا، لیکن اسے حد بندی سے جوڑنا غلط ہے۔ انہوں نے اسے سیاسی کھیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے مسائل کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تھرور نے کہا کہ اگر حکومت علیحدہ خواتین ریزرویشن بل پیش کرتی ہے تو کانگریس اس کی حمایت کرے گی۔
کانگریس لیڈر راجیو شکلا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اپوزیشن متحد ہے اور اس نے حکومت کی سخت مخالفت کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کانگریس خواتین کے تحفظات کی حمایت کرتی ہے، لیکن حکومت کے مقاصد پر سوالیہ نشان لگایا۔سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے اس بل کو مخالف دلت اور مخالف او بی سی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں پسماندہ طبقات کی خواتین کے لیے علیحدہ تحفظات کی فراہمی نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے خواتین میں تقسیم پیدا کرنے کی بھی کوشش کی۔ترنمول کانگریس کی رکن اسمبلی مہوا موئترا نے کہا کہ خواتین کے ریزرویشن کا اصل بل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، لیکن حکومت نے ایک نئے بل کے ذریعے حد بندی کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اس نے اسے ایک فریب کارانہ حکمت عملی قرار دیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan