ترکیہ کا سفارتی فورم کا آغاز، ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی کوششوں پر گفتگو
انقرہ،18اپریل(ہ س)۔ترکیہ کے زیرِ اہتمام ایک سفارتی فورم کا آغاز جمعہ کے روز انطالیہ میں ہوا، جس میں سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کی
ترکیہ کا سفارتی فورم کا آغاز، ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق سفارتی کوششوں پر گفتگو


انقرہ،18اپریل(ہ س)۔ترکیہ کے زیرِ اہتمام ایک سفارتی فورم کا آغاز جمعہ کے روز انطالیہ میں ہوا، جس میں سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا حتمی خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

اس فورم میں 150 سے زائد ممالک کے نمائندے شریک ہیں، جن میں 20 سے زیادہ سربراہانِ مملکت و حکومت بھی شامل ہیں، جن میں شام کے صدر احمد الشرع اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی موجود ہیں۔ترکیا صدر رجب طیب اردوان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ امن کا سب سے مختصر راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔اردوان نے (ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے اعلان سے قبل خطاب کرتے ہوئے) کہا کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہتھیار الفاظ کی جگہ لے لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں محتاط اور تیار رہنا چاہیے تاکہ اسرائیل کی جانب سے مذاکراتی عمل کو سبوتاڑ کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔ تاہم انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کا ذکر نہیں کیا۔

بعد ازاں فورم کے موقع پر سعودی عرب، مصر، ترکیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ایک ملاقات بھی ہوئی، جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد منعقد ہوئی۔ترکیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری تصویر میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات دیکھی گئی۔ترکیا کی وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے کے مطابق اس اجلاس میں علاقائی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ طریقہ کار پر غور کیا گیا، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع سے متعلق امور پر۔اسی دوران اردوان نے فورم کے موقع پر پاکستان کے وزیراعظم سے بھی ملاقات کی۔اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی حتمی معاہدہ کیا جا سکے، تاہم ابتدائی کوششیں مکمل اتفاق رائے تک نہ پہنچ سکیں۔

اس کے باوجود پاکستان اس مقصد کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ترکیا بھی خطے میں استحکام کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور مصر کے ساتھ مل کر پاکستان کی ان کوششوں میں شریک ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande