
تہران،18اپریل(ہ س)۔
تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی ایران کے اندر مختلف سیاسی حلقوں اور شخصیات کی جانب سے تنقید کی لہر سامنے آئی ہے۔ اس میں ایرانی مذاکرات کاروں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے درمیان ہونے والے ابتدائی معاہدوں اور رابطوں کی تفصیلات میں شفافیت کے فقدان کی مذمت کی جا رہی ہے۔
تہران کے میئر اور سخت گیر بنیاد پرست رہنما علی رضا زاکانی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کو فوجی میدان کی کامیابیوں کا تسلسل ہونا چاہیے تھا اور اگر یہ سپریم لیڈر کی نگرانی میں ہو رہے ہیں تو تمام فیصلے ان کی حکمت عملی کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ٹویٹ کے بعد ٹرمپ کے جارحانہ لہجے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹرمپ کے دعوے جھوٹے ہیں تو سختی سے جواب دیا جائے، اور اگر سچ ہیں تو دشمن کو میز پر وہ کچھ نہ دیا جائے جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکی بحری محاصرے کا دعویٰ درست ہے تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے جس کا جواب دیا جانا چاہیے۔
پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں اداروں 'فارس' اور 'تسنیم' نے بھی عراقچی کے اعلان پر ضمنی تنقید کی ہے۔ 'فارس' نیوز ایجنسی نے حکام کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاشرہ الجھن کا شکار ہے، لہٰذا وضاحت نہ کرنے کی وجہ ہی بیان کر دی جائے۔ 'تسنیم' نیوز ایجنسی نے عراقچی کی ٹویٹ کو نا مکمل اور ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی شرائط اور طریقہ کار کے بارے میں ابہام پیدا ہوا ہے۔صحافتی حلقوں میں بھی شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ روزنامہ 'جوان' کے سابق ایڈیٹر نظام الدین موسوی نے کہا کہ عوام کے اعتماد کا مطلب یہ نہیں کہ رائے عامہ کو نظر انداز کیا جائے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' کے سی ای او علی نادری نے لکھا کہ عراقچی کے بیان کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ آبنائے ہرمز اب ہمارے ہاتھ میں نہیں رہی اور یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کے بدلے ہمیں کیا ملا۔ میڈیا کارکن مصطفیٰ نجفی کا کہنا تھا کہ ایران ایک بار پھر بیانیہ سازی میں کمزور ثابت ہوا ہے اور ٹرمپ نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا بیانیہ مسلط کر دیا ہے، جبکہ مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ کریں۔دوسری جانب حکومت کے بعض حامیوں نے صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ سپریم لیڈر کی منظوری اور علم کے بغیر نہیں ہوا۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکن میلاد گودرزی نے طنزیہ طور پر لکھا کہ لاریجانی کے بعد اب جنگ میں ایران کا کوئی با ضابطہ ترجمان نہیں رہا۔ میڈیا کارکن داو¿د مدرسیان نے رائے دی کہ بیانیے سے زیادہ اہم وہ مراعات ہیں جو دی گئی ہیں، جب مراعات حاصل ہونے والے فوائد سے زیادہ ہوں تو حکام میڈیا سے کترانے لگتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan