
اسلام آباد، 17 اپریل (ہ س)۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں گیس پائپ لائن میں دھماکے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ پانچ دیگر متاثرہ افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور وہ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن میں لگنے والی آگ میں پھنس گئے تھے۔ آگ بجھانے کے لیے قریبی علاقوں سے فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو طلب کرنا پڑا۔
ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق، ہری پور کے ڈپٹی کمشنر وسیم احمد نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا۔ آگ میں پھنسے چھ افراد کو بچا لیا گیا۔ جاں بحق ہونے والوں میں تین بچے، دو لڑکیاں، دو بزرگ خواتین اور ایک مرد شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سات سے آٹھ گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا اور ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں کالونی موڑ کے قریب کوٹ نجیب اللہ میں گیس پائپ لائن میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس سے قریبی فیکٹری میں خوف وہراس پھیل گیا۔ فیکٹری کے کارکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم بہت سے لوگ قریبی رہائشی علاقے میں پھنس گئے۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ریسکیو اور فائر ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ آگ کی شدت کو دیکھتے ہوئے مانسہرہ، ایبٹ آباد، مردان اور صوابی سے سات اضافی فائر انجن اور فائر فائٹرز کو طلب کیا گیا۔ واقعے کے بعد ہزارہ ڈویژن کو گیس کی فراہمی معطل ہوگئی۔
صوبائی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت متاثرین کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ