ایران میں 48 دن بعد گوگل سرچ بحال، جی میل اب بھی بند
تہران، 17 اپریل (ہ س)۔ ایران میں تقریباً 48 دنوں تک جاری رہنے والی انٹرنیٹ پابندیوں کے بعد جزوی راحت ملی ہے۔ ملک میں اب گوگل سرچ سروس بحال کر دی گئی ہے، جس سے عام شہری فکسڈ لائن اور موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے سرچ انجن کا استعمال کر پا رہے ہیں۔ تا
علامتی تصویر


تہران، 17 اپریل (ہ س)۔

ایران میں تقریباً 48 دنوں تک جاری رہنے والی انٹرنیٹ پابندیوں کے بعد جزوی راحت ملی ہے۔ ملک میں اب گوگل سرچ سروس بحال کر دی گئی ہے، جس سے عام شہری فکسڈ لائن اور موبائل انٹرنیٹ کے ذریعے سرچ انجن کا استعمال کر پا رہے ہیں۔ تاہم، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی اب بھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکی ہے اور کئی جگہوں پر اتار چڑھاو کی صورتحال برقرار ہے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جہاں ایک طرف گوگل سرچ کی واپسی ہوئی ہے، وہیں جی میل سمیت کئی دیگر اہم خدمات اب بھی بند ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ ملک میں انٹرنیٹ خدمات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہیں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں پر جزوی پابندی جاری ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تصادم کے بعد ایرانی حکومت نے ملک میں انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس دوران عام شہریوں کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً بند کر دی گئی تھی۔ صرف کچھ محدود صارفین-جیسے سرکاری نیٹ ورک سے وابستہ لوگ یا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کا استعمال کرنے والے—ہی انٹرنیٹ استعمال کر پا رہے تھے۔

طویل عرصے تک انٹرنیٹ بند رہنے کا ملک کی معیشت پر سنگین اثر پڑا ہے۔ رپورٹس میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان پابندیوں کے باعث ایران کو تقریباً 1.8 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ ای کامرس، ڈیجیٹل خدمات اور چھوٹے کاروباروں پر اس کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملا۔

حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ خدمات کو آہستہ آہستہ بحال کرنے کا عمل جاری ہے، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ تمام خدمات مکمل طور پر کب تک معمول پر آ سکیں گی۔ فی الحال، جزوی بحالی کو ایک مثبت اشارہ مانا جا رہا ہے، لیکن مکمل ڈیجیٹل معمولات بحال ہونے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande