
ڈھاکہ، 17 اپریل (ہ س)-
بنگلہ دیش میں چٹوگرام (پرانا نام چٹاگانگ) کی ایک عدالت نے نامور ہندو سنت چنمے کرشن داس برہمچاری کو ایک معاملے میں ضمانت دے دی۔ چنمے برہمچاری نومبر 2024 سے سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سخاوت حسین نے جمعرات کو ضمانت کا حکم جاری کیا۔ ہندو سنت کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں، اس لیے ابھی انہیں عدالتی تحویل میں ہی رہنا ہوگا۔ انہیں چٹوگرام جیل میں رکھا گیا ہے۔ اس سے قبل انہیں ڈھاکہ ہائی کورٹ سے مشہور غداری وطن کے معاملے میں ضمانت مل چکی ہے۔
ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، جس معاملے میں ہندو سنت کو ضمانت دی گئی ہے، اسے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) رہنما اور سابق وزیر میر محمد ناصر الدین نے 2023 میں دائر کیا تھا۔ انہوں نے اپنی شکایت میں برہمچاری پر ہاتھزاری ذیلی ضلع کے میکھلا علاقے میں زمین پر قبضہ کرنے، دھمکانے اور مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس معاملے میں چنمے کرشن داس اور پانچ دیگر افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔ برہمچاری کے خلاف وکیل سیف الاسلام الیف کے قتل کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ ان پر کم از کم چھ دیگر مقدمات بھی زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت نے 7 اپریل کو بی این پی رہنما ناصر الدین کے معاملے میں ہندو سنت کو باضابطہ طور پر گرفتار کرنے کی عرضی منظور کی تھی۔
قابلِ ذکر ہے کہ 26 نومبر 2024 کو قومی پرچم کی مبینہ توہین کے حوالے سے غداری وطن کا معاملہ سامنے آنے کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اس دوران وکیل سیف الاسلام الیف کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر اور چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ان کے والد جمال الدین نے 31 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ وکیل قتل کیس میں ان کی ضمانت کی درخواست کئی بار مسترد ہو چکی ہے۔ دیگر مقدمات میں ان پر قتل، پولیس پر حملہ، توڑ پھوڑ اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات شامل ہیں۔
یکم جولائی 2025 کو پولیس نے وکیل سیف الاسلام الیف کے قتل کے سلسلے میں چنمے اور 38 دیگر افراد کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس سے قبل 2 جنوری کو عدالت نے ہندو سنت چنمے کرشن داس برہمچاری کی وکیل قتل کیس میں ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ چنمے کرشن داس برہمچاری کو ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی جاسوسی شاخ نے 25 نومبر 2024 کی شام 4.30 بجے حضرت شاہ جلال بین الاقوامی ہوائی اڈے سے حراست میں لیا تھا۔ تب سے برہمچاری جیل میں بند ہیں۔
برہمچاری کی گرفتاری کے خلاف ڈھاکہ کے شاہ باغ اور چٹاگانگ میں کئی دنوں تک لوگوں نے مظاہرہ کیا تھا۔ تقریباً 40 سالہ ہندو سنت چنمے کو غداری وطن کے سنگین الزام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ غداری وطن کے کیس میں انہیں اپریل 2025 میں ڈھاکہ ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے۔ چنمے اصل میں چٹاگانگ کے ستکنیا ذیلی ضلع کے رہنے والے ہیں۔ وہ 2007 سے چٹاگانگ کے ہاتھزاری میں واقع پنڈریک دھام کے سربراہ رہے ہیں۔ وہ سناتن جاگرن منچ کے بانی ہیں۔ منچ نے بنگلہ دیش میں ہندووں کے استحصال کا مسئلہ نمایاں طور پر اٹھایا ہے۔ اس واقعے نے بنگلہ دیش میں اقلیتی برادری کے تحفظ کے حوالے سے کافی تشویش پیدا کر دی تھی۔ حکومتِ ہند نے اس پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن