اسرائیل اور لبنانی جنگجو تنظیم حزب اللہ کے درمیان 10 دنوں کی جنگ بندی
واشنگٹن/بیروت/تل ابیب، 17 اپریل (ہ س)۔ اسرائیل اور ایران کے حامی لبنان کے درمیان 10 دنوں کی جنگ بندی (سیز فائر) ہوگئی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے سربراہانِ مملکت نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ صدر ٹ
اسرائیل کے حملے کے بعد جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کا منظر۔ فوٹو: انٹرنیٹ میڈیا


واشنگٹن/بیروت/تل ابیب، 17 اپریل (ہ س)۔

اسرائیل اور ایران کے حامی لبنان کے درمیان 10 دنوں کی جنگ بندی (سیز فائر) ہوگئی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے سربراہانِ مملکت نے اس پر اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا، ’’میں نے آج لبنان کے صدر جنرل جوزف عون اور اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے بات کی۔ دونوں ہی 10 دن کے سیز فائر پر متفق ہو گئے ہیں۔ دونوں رہنماوں نے اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے وہ مشرقی وقت کے مطابق شام پانچ بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے) باضابطہ طور پر حملے روک دیں گے۔‘‘

امریکہ کے سی بی ایس نیوز چینل، لبنان کے لورینٹ ٹوڈے اخبار اور اسرائیل کے ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کے ساتھ مل کر کام کریں، تاکہ اسرائیل اور لبنان کو مستقل امن حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔ صدر نے کہا کہ وہ نیتن یاہو اور عون کو بات چیت کے لیے وائٹ ہاوس بھی مدعو کریں گے۔ قابلِ ذکر ہے کہ لبنان میں جاری یہ تنازع اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہے۔ حزب اللہ لبنان میں ایران کی کٹھ پتلی (پروکسی) جنگجو تنظیم ہے۔

لبنان کے صدر عون نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کرانے کی کوششوں کے لیے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ لبنان کے ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق، عون نے کہا کہ ٹرمپ کی کوششوں سے اس خطے میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے کا راستہ صاف ہوا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے لبنان کے لیے اپنی حمایت کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس دوران وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے سیکورٹی کابینہ کے وزراء سے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے کہنے پر لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے اس معاملے پر باضابطہ ووٹنگ کرانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمارے دوست ہیں اور اسرائیل مکمل طور پر ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے وزراء کو یقین دلایا کہ جنگ بندی کے دوران اسٹریٹجک مقامات پر تعینات ہماری سیکورٹی فورسز پیچھے نہیں ہٹیں گی۔

اسرائیل کے حزب اختلاف رہنما یائر لاپیڈ نے لبنان میں سیز فائر کے لیے وزیراعظم کی سخت تنقید کی ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ نیتن یاہو حکومت وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔ حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل حملے روک دیتا ہے تو لبنانی جنگجو تنظیم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کی پاسداری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لبنان پر دباو ڈالنے کے لیے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اگر ایران اس سیز فائر کوآبنائے ہرمز کو بند کرنے کے برابر نہ مانتا تو یہ ممکن نہ ہو پاتا۔

لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر اس کامیابی کے لیے لبنان کے عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے لڑائی ختم کرنے کی کوششوں کے لیے عالمی رہنماوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس جنگ بندی پر لبنانی فوج کے ترجمان چارلس جبور نے کہا کہ 10 دن کی جنگ بندی کا استعمال حکومت کو حزب اللہ کے اسلحہ چھوڑنے کے لیے کرنا چاہیے۔ فرانس کے صدر کی سرکاری رہائش گاہ اور دفتر ’ایلیسی‘ نے جنگ بندی کو بہت اچھی خبر قرار دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande