
حیدرآباد ، 15 اپریل (ہ س) ۔
تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ نتائج جاری ہونے کے بعد طلبہ کی خودکشیوں کا بڑھتا سلسلہ شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں مختلف اضلاع میں جملہ 13 طلبہ نے امتحانات میں ناکامی و مایوسی کے باعث اپنی جانیں لے لیں جس سے کئی خاندان غم اورصد مے میں ڈوب گئے ہیں۔ تازہ واقعات میں ضلع سنگاریڈی کے رمیش اورنندنی ضلع نرمل کے مانی وردھن اوربھوکیا آکاش جبکہ ضلع سدی پیٹ سے پی پرتیو شامل ہیں جنہوں نے نتائج سے مایوس ہوکر انتہائی قدم اٹھایا۔ اس سے قبل حیدرآباد کے وارثی گوڑہ کی طالبہ کلیانی، ناچارم کے لکشمیا، میدک کے سائی رام، اٹنور کی سوجنیا،بھوتپورمنڈل کی مورانی،سوریا پیٹ کی سوجنیا اوررنگاریڈی کے ابھی یادو جیسے کئی طلبہ جانیں گنوا چکے ہیں۔ان افسوسناک واقعات کے پس منظر میں ماہرین تعلیم اورماہرنفسیات نے دکھ اورتشویش کا اظہارکیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ امتحانات زندگی کا صرف ایک حصہ ہے۔ پوری زندگی نہیں ہیں۔ طلبہ کو ایک ناکامی پرخود کوختم کرنے کی بجائے دوبارہ کوشش کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ ماہرین نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں اور ناکامی کی صورت انہیں ذہنی سہارا فراہم کریں۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ ایک بار ناکام ہونا زندگی کا اختتام نہیں بلکہ سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ہے جبکہ سپلیمنٹری امتحانات میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ یہ مسلسل واقعات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ تعلیمی دباؤاورسماجی توقعات طلبہ کی ذہنی صحت پر سنگین اثرات ڈال رہے ہیں جس کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق