
ذہنی امراض میں اضافہ، گھریلو اور معاشی مسائل بڑی وجہتھانے ، 15 اپریل (ہ س) تھانے کے سول اسپتال میں ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے جاری مہم کے تحت بڑی تعداد میں مریضوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران اسپتال کے نفسیاتی بیرونی مریضوں کے شعبے (او پی ڈی) میں کل 3450 افراد نے علاج حاصل کیا، جو بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور علاج کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈپریشن، اینگزائٹی ڈس آرڈر (یعنی ذہنی دباؤ اور بے چینی) اور دیگر نفسیاتی امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان مسائل کی بڑی وجوہات میں گھریلو تنازعات، مالی مشکلات، کام کا دباؤ اور بدلتا ہوا طرزِ زندگی شامل ہیں۔ضلع سرجن ڈاکٹر کیلاش پوار اور ایڈیشنل ضلع سرجن ڈاکٹر دھیراج مہانگڑے کی رہنمائی میں ماہر ڈاکٹروں، کونسلرز اور ہیلتھ ورکرز کی ٹیم مریضوں کو کونسلنگ، ادویات اور دیگر ضروری مدد فراہم کر رہی ہے۔ معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر وجے تیلی کے مطابق اس اقدام سے مریضوں کو بروقت علاج مل رہا ہے اور ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں۔سول اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ذہنی بیماریوں کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بیداری مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں ذہنی دباؤ کا سامنا ہو تو اسے نظرانداز نہ کریں بلکہ فوری طور پر ماہرین سے رجوع کریں۔انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ذہنی صحت کا خیال رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور بروقت علاج کے ذریعے کئی سنگین مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر کیلاش پوار نے کہا کہ ذہنی بیماریاں دماغ میں بایو کیمیکل عدم توازن، ذہنی دباؤ اور سماجی عوامل کے باعث پیدا ہوتی ہیں، تاہم بروقت تشخیص، مشاورت اور ادویات کے مشترکہ علاج سے مریضوں میں نمایاں بہتری ممکن ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے