ایم پی میں 10 ویں اور 12 ویں بورڈ امتحان کے نتائج کا اعلان، طالبات نے پھر بازی ماری
بھوپال، 15 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے منعقدہ دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات-2026 کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ کے دفتر ’سمتو‘ میں منعقدہ ایک پروگرام
ایم پی بورڈ کے امتحان نتائج جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ


ایم پی بورڈ کے امتحان نتائج جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ


بھوپال، 15 اپریل (ہ س)۔

مدھیہ پردیش بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے منعقدہ دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات-2026 کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ کے دفتر ’سمتو‘ میں منعقدہ ایک پروگرام میں دونوں بورڈ امتحانات کے نتائج ایک ساتھ جاری کیے۔ دونوں جماعتوں میں ہر بار کی طرح اس بار بھی طالب علموں کے مقابلے طالبات نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس سال ریاست میں 10 ویں اور 12 ویں کے بورڈ امتحانات میں 16 لاکھ سے زیادہ طلباء شامل ہوئے تھے۔ ان میں تقریباً 9 لاکھ 7 ہزار طلباء 10 ویں اور تقریباً 7 لاکھ طلباء 12 ویں کے امتحان میں بیٹھے تھے۔ طلباء گھر بیٹھے اپنا نتیجہ ایم پی بورڈ کے آفیشل لنک

- https://mpbse.mponline.gov.in اور

- https://www.digilocker.gov.in/web/dashboard/issuers پر دیکھ سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ ڈاکٹر یادو نے 10 ویں اور 12 ویں جماعت کے بورڈ امتحان کا نتیجہ جاری کرتے ہوئے اسے دنیائے تعلیم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے نتائج کئی لحاظ سے تاریخی رہے، کیونکہ گزشتہ 16 برسوں کی بہترین کارکردگی درج کی گئی ہے۔ اس بار سرکاری اسکولوں کا پاس فیصد 76.80 رہا، جس نے پرائیویٹ اسکولوں کے 68 فیصد کے اعداد و شمار کو کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر قبائلی علاقوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انوپ پور، علی راج پور اور جھابوا جیسے اضلاع نے تعلیم کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ جھابوا ضلع 93.23 فیصد کے ساتھ ریاست میں اول رہا۔ وزیراعلیٰ نے ان طلباء کا حوصلہ بھی بڑھایا جو کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے ماہ ہی دوسرا امتحان منعقد کیا جائے گا، تاکہ 12 ویں کے ان 1.99 لاکھ طلباء کا سال برباد نہ ہو جو اس بار کامیاب نہیں ہوسکے۔

نتائج میں بیٹیوں نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 12 ویں جماعت میں جہاں 79.41 فیصد بیٹیاں کامیاب رہیں، وہیں طالب علموں کا فیصد 72.39 رہا۔ بھوپال میں خوشی رائے اور چاندنی وشوکرما نے میرٹ میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ دونوں نے 500 میں سے 494 نمبرات حاصل کیے ہیں۔ خوشی شیواجی نگر میں واقع سبھاش ایکسیلنس اسکول اور چاندنی گرو دیو شکشا مرکز نیل بڑ بھوپال کی طالبہ ہیں۔

12 ویں جماعت میں ریگولر طلباء کا پاس فیصد 76.01 رہا، جبکہ پرائیویٹ طلباء کا رزلٹ 30.60 فیصد درج کیا گیا۔ اضلاع میں جھابوا پہلے اور انوپ پور دوسرے نمبر پر رہا۔ کسی بھی طالب علم کو سپلیمنٹری قرار نہیں دیا گیا۔ تقریباً ایک لاکھ 99 ہزار طلباء فیل ہوئے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کا رزلٹ 80.43 فیصد رہا۔ یہ پرائیویٹ اسکولوں کے 69.67 فیصد سے کافی زیادہ ہے۔ ریاستی سطح کی میرٹ لسٹ میں کل 121 طلباء نے اپنی جگہ بنائی ہے۔

10 ویں جماعت میں اس بار 73.42 فیصد باقاعدہ طلباء پاس ہوئے۔ ان میں ٹاپ ٹین میں 378 طلباء نے 490 سے 499 تک نمبرات حاصل کیے۔ انفرادی کامیابیوں کی بات کریں تو ہائی اسکول میں پنا کی پرتیبھا سولنکی نے 500 میں سے 499 نمبرات حاصل کر کے پوری ریاست میں پہلا مقام حاصل کیا۔ دوسرے مقام پر 498 نمبر والے دو اسٹوڈنٹس (بالاگھاٹ کی اکشرا گھوڑیشور اور سیدھی کے ابھے گپتا) ہیں۔ تیسرے نمبر پر شہڈول کے یوگیندر سنگھ پرمار رہے۔ وہیں، سات طلباء نے 497 اور 12 نے 496 نمبرات حاصل کیے ہیں، جبکہ 17 طلباء کو 495 نمبر ملے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande