
پٹنہ، 13 اپریل (ہ س)۔ بہار کی سیاست ان دنوں اپنے عروج پر ہے اور آئندہ 48 گھنٹے انتہائی اہم مانے جا رہے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام اور حلف برداری تقریب کے لیے انتظامی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اس تناظر میں بہار کے گورنر نے پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر تیاگراجن ایس ایم کو پیر کی صبح لوک بھون میں طلب کیا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حلف برداری تقریب کی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
بہار میں 14 اپریل کو ہونے والی کابینہ کی اہم میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کیے جانے کی امید ہے۔ اس میٹنگ کو نئی حکومت کی تشکیل کی جانب فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ 1 انے مارگ پر بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے کئی سینئر لیڈر اور وزراء بشمول کارگزار قومی صدر سنجے جھا، مرکزی وزیر للن سنگھ اور وزیر وجے چودھری وہاں پہنچے ہیں۔
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے ڈی یو کے کارگزار قومی صدر سنجے جھا نے کہا کہ پورا عمل منصوبہ بندی کے مطابق آسانی سے جاری ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ خود اس سارے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھی اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔ مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کرنے کے لیے 14 اپریل کو پٹنہ پہنچیں گے۔ پارٹی نے انہیں اس عمل کے لیے مرکزی مبصر مقرر کیا ہے۔
ادھر سیاسی حلقوں میں گونج رہی ہے کہ وزیر اعظم بھی نئے وزیر اعلیٰ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کر سکتے ہیں۔حالانکہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan