ہندوستان میں ایرانی خام تیل کی سات سال بعد واپسی، اہم بندرگاہوں پر تیل ٹینکر پہنچے
نئی دہلی، 13 اپریل (ہ س)۔ مشرق وسطی کے بحران اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے درمیان، ایرانی خام تیل لے کر آئے دو بڑے ٹینکر ہندوستان کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے بندرگاہوں پر پہنچ گئے ہیں، جو تقریبا سات برسوں میں پہلی بار اس طرح کی ترس
Iranian-Crude-Oil-Returns-to-India-After-7-Years-T


نئی دہلی، 13 اپریل (ہ س)۔ مشرق وسطی کے بحران اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے درمیان، ایرانی خام تیل لے کر آئے دو بڑے ٹینکر ہندوستان کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے بندرگاہوں پر پہنچ گئے ہیں، جو تقریبا سات برسوں میں پہلی بار اس طرح کی ترسیل ہے ۔شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار سے یہ معلومات سامنے آئی ہے۔

پیر کے روز جاری کردہ شپ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق، ایرانی خام تیل سے بھرا ایک کروڈ آئل ٹینکر اڈیشہ کی پارادیپ بندرگاہ کے قریب پہنچنے کے بعد، ایک اور ایرانی آئل ٹینکر گجرات کی سکا بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گیا ہے۔ اس جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہے،جسے مارچ کے وسط میں جزیرہ کھرگ سے لادا گیا تھا۔

شپ ٹریکنگ کے مطابق، یہ تیل ٹینکرز تقریباً سات برسوں میں ہندوستانی بندرگاہوں پر پہنچنے والے ایرانی خام تیل کے پہلے کارگو ہیں۔ نیشنل ایرانین ٹینکر کمپنی کی طرف سے چلائے جانے والے فیلیسیٹی نامی خام تیل بردار بحری جہاز اتوار کی رات دیر گئے گجرات کے ساحل پر سکا کے قریب لنگر انداز ہوا۔ اس جہاز میں تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل ہے، جسے مارچ کے وسط میں جزیرہ کھرگ سے لادا گیا تھا۔

اسی وقت، ایک دوسراتیل کا ٹینکر’ جیا‘ اڈیشہ کے ساحل پر پارادیپ کے قریب آکر رکا۔ یہ جہاز تقریباً اتنی ہی مقدار میں خام تیل لے کر آیا ہے ، جسے فروری کے آخر میں کھرگ جزیرے سےلیا گیا تھا۔ یہ کھیپ امریکہ کی جانب سے گزشتہ ماہ محدود پابندیوں میں چھوٹ دینے کے بعد آئی ہیں، جس کے تحت پہلے سے راستے میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔

سات سال بعد پہلی ایرانی خام تیل کی کھیپ

خام تیل کی یہ کھیپ تقریباً سات برسوں میں ہندوستانی ساحلوں پر پہنچنے والی ایرانی خام تیل کی پہلی کھیپ ہے۔ یہ گزشتہ ماہ امریکہ کی طرف سے جاری کردہ پابندیوں سے چھوٹ کے باعث ممکن ہوا ہے۔ اس ایک ماہ کی چھوٹ نے اس ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دی جو پہلے سے ہی راستے میں تھا۔ اس کا مقصد عالمی سپلائی چین میں آئی رکاوٹوں کو کم کرنا اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا تھا۔ حالانکہ، ہفتے کے آخر میں پاکستان میں امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد، واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس کا مقصد تہران کی تیل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی پر روک لگانا ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande