دہلی-بہار ڈرگ سنڈیکیٹ کا پردہ فاش، چھ اسمگلر گرفتار
۔ بہار سے منشیات لاتے تھے اور دہلی-این سی آر میں فروخت کرتے تھے نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ مشرقی ضلع کی اینٹی نارکوٹکس سکواڈ (اے این ایس) نے ایک بین ریاستی منشیات اسمگلنگ سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ گرفتار ملزمان سے ک
EAST-DISTRICT-DRUG-SYNDICATE


۔ بہار سے منشیات لاتے تھے اور دہلی-این سی آر میں فروخت کرتے تھے

نئی دہلی، 12 اپریل (ہ س)۔ مشرقی ضلع کی اینٹی نارکوٹکس سکواڈ (اے این ایس) نے ایک بین ریاستی منشیات اسمگلنگ سنڈیکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے چھ ملزمان کو گرفتار کیا ہے ۔ گرفتار ملزمان سے کل 58.7 کلو گرام گانجہ (تجارتی مقدار) اور 5.31 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے ہیں۔ ضبط شدہ گانجہکی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 30 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔

مشرقی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجیو کمار نے اتوار کو بتایا کہ اس معاملے میں ابتدائی طور پر دو ملزمین ندیم اور مونو عرف ابھیشیک کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے پاس سے 45 کلو 760 گرام گانجہ، 2.65 لاکھ روپے نقد، الیکٹرانک وزنی ترازو اور پیکنگ کا سامان برآمد کیا گیا۔ مزید تفتیش کے نتیجے میں چار دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

تحقیقات کے دوران 9 اپریل کو ندیم کی معلومات کی بنیاد پر لونی (غازی آباد) کے رہائشی شیر خان کو گرفتار کیا گیا جو اس نیٹ ورک کا اہم سپلائر تھا۔ اس کے بعد 11 اپریل کو کلیان پوری کی رہنے والی پنکی کور عرف ڈان (43) کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے پاس سے 2 کلو 636 گرام گانجہ اور 2.66 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق، پولیس نے مزید کارروائی کرتے ہوئے بہار سے گانجے کی سپلائی کا سراغ لگایا۔ 11 اپریل کو سنجے جھیل کے قریب جال بچھایا گیا اور بہار کے ویشالی ضلع کے بولی پور کے رہنے والے دیپک پٹیل (31) اور وکاس (32) کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے پاس سے تقریباً 10 کلو گرام (300 گرام)گانجہ برآمد ہوئی۔

پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ گینگ بہار سے بڑی مقدار میں گانجہ درآمد کرتا تھا اور اسے دہلی-این سی آر میں سپلائی کرتا تھا۔ ملزمان کرائے کے اپارٹمنٹس یا گھروں میں گانجہ کوچھپاکر رکھتے تھے اور پھر اس کے چھوٹے چھوٹے پیک بناکر مقامی طور پر فروخت کرتے تھے۔اس کے لیے پلاسٹک کے پاو¿چز، اسٹیپلرز اور ٹیپ کا استعمال کرتے تھے، تاکہ انہیں آسانی سے تقسیم کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ شک سے بچنے کے لیے پرہجوم رہائشی علاقوں کو اپنے اڈے کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ ان کا بنیادی مقصد فوری منافع کمانا تھا اور اس کے حصول کے لیے انہوں نے ایک منظم نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ تمام چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اب اس نیٹ ورک کے دیگر ارکان اور ان کے بالواسطہ اور بالواسطہ روابط کے بارے میں تفتیش کر رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande