تاریخ کے آئینے میں 12 اپریل: جب ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر ہندوستان نے تاریخ رقم کی
ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں 12 اپریل کی تاریخ ایک ایسی تاریخی فتح کے لیے جانی جاتی ہے جس نے ٹیم انڈیا کے اعتماد کو نئی بلندی عطا کی۔ سال 1975 میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو اس کے اپنے ہی گڑھ میں ہرا کر یادگار جیت درج کی تھی۔ یہ مقابلہ پور
12 اپریل: جب ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر ہندوستان نے تاریخ رقم کی


ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں 12 اپریل کی تاریخ ایک ایسی تاریخی فتح کے لیے جانی جاتی ہے جس نے ٹیم انڈیا کے اعتماد کو نئی بلندی عطا کی۔ سال 1975 میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو اس کے اپنے ہی گڑھ میں ہرا کر یادگار جیت درج کی تھی۔

یہ مقابلہ پورٹ آف اسپین میں کھیلا گیا تھا، جہاں ونڈیز کے کپتان کلائیو لائیڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ ان کی ٹیم نے پہلی اننگز میں 359 رن بنائے، جس میں ویوین رچرڈز کی 177 رنوں کی شاندار اننگز شامل تھی۔ ہندوستان کی جانب سے بھاگوت چندر شیکھر نے 6 اور کپتان بشن سنگھ بیدی نے 4 وکٹ لیے۔

ہندوستان کی پہلی اننگز 228 رن پر سمٹ گئی، جس کی وجہ سے اسے سبقت گنوانی پڑی۔ اس کے بعد ونڈیز نے دوسری اننگز 271/6 پر ڈکلیئر کر کے ہندوستان کو 403 رنوں کا مشکل ہدف دیا۔ اس دور میں چوتھی اننگز میں اتنے بڑے ہدف کا تعاقب کرنا تقریباً ناممکن مانا جاتا تھا۔

ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہندوستان کو ابتدائی جھٹکے لگے، لیکن سنیل گاوسکر (102) اور گنڈپا وشواناتھ (112) کی شاندار اننگز نے ٹیم کو سنبھالا۔ اس کے بعد مہندر امرناتھ (85) اور برجیش پٹیل (49) نے صبر آزما بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم کو تاریخی جیت دلا دی۔

یہ جیت اس لیے بھی خاص تھی کیونکہ ہندوستان نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی اننگز میں 400 سے زائد رنوں کا ہدف حاصل کیا تھا۔ اس وقت ویسٹ انڈیز دنیا کی سب سے مضبوط ٹیموں میں شمار کی جاتی تھی، اور اسے اسی کے گھر میں ہرانا کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں تھا۔

آگے چل کر یہی اعتماد ہندوستانی کرکٹ کے سنہری دور کی بنیاد بنا۔ کچھ برسوں بعد 1983 ورلڈ کپ میں کپل دیو کی کپتانی میں ہندوستان نے عالمی فاتح بن کر تاریخ رقم کی، جس کے فائنل میں پھر سے ویسٹ انڈیز کو ہی شکست دی گئی۔

اس طرح 12 اپریل 1975 کی جیت ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر ہمیشہ یاد کی جاتی ہے۔

دیگر اہم واقعات:

1236 - دہلی (ہندوستان) کا حکمراں التتمش کا انتقال۔

1723 - مغل خاندان کا 12 واں بادشاہ نیک سیئر کا انتقال۔

1801 - ولیم کیری کو فورٹ ولیم کالج آف کولکاتا میں بنگلہ زبان کا پروفیسر مقرر کیا گیا۔

1885 - موہنجودڑو کی دریافت کرنے والے مشہور مورخ راکھل داس بنرجی کی پیدائش۔

1927 - برطانوی کابینہ نے خواتین کو ووٹنگ کا حق دینے کی حمایت کی۔

1945 - امریکہ کا اوکی ناوا پر حملہ۔

1946 - شام پر فرانس کا قبضہ ختم ہوا۔

1954 - مشہور مارکسی ڈرامہ نگار، فنکار، ڈائریکٹر اور نغمہ نگار صفدر ہاشمی کی پیدائش۔

1955 - ڈاکٹر جونس سالک نے پولیو کی دوا ایجاد کرنے کا اعلان کیا۔

1961 - سوویت یونین نے خلا میں اپنا دبدبہ قائم کرتے ہوئے یوری گیگرین کو خلا میں بھیجا۔ وہ خلا کا سفر کرنے والے پہلے انسان تھے۔ میجر یوری نے بیکانور خلائی مرکز سے ’’ووسٹاک‘‘ نامی خلائی جہاز سے اڑان بھری۔ اس وقت ان کی عمر 27 سال تھی۔

1978 - ہندوستان کی پہلی ڈبل ڈیکر ریل گاڑی بمبئی کے وکٹوریہ ٹرمینل سے پونے کے لیے اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوئی۔

1978 - مشہور شاعر تاج بھوپالی کا انتقال۔

1991 - خلیجی جنگ باضابطہ طور پر ختم۔

2006 - قبرص کے صدر تاسوس پاپاڈوپولوس 6 روزہ دورے پر ہندوستان پہنچے۔

2007 - پاکستان نے ایران گیس پائپ لائن پر ہندوستان کو منظوری دی۔

2007 - ایئر لائنز جیٹ نے ایئر سہارا کو خریدا۔

2008 - ہندوستانی نژاد برطانوی صنعت کار اور رکن پارلیمنٹ لارڈ سوراج پال کی ملکیت والے کیپیرو گروپ نے مغربی بنگال کے سنگور میں موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے کی تین یونٹیں لگانے کا فیصلہ کیا۔

2008 - افغانستان میں ہندوستانیوں کے ایک قافلے پر ہوئے خودکش حملے میں دو ہندوستانی انجینئروں سمیت تین افراد کی موت۔

2010 - لدھیانہ، پنجاب کے گرو نانک دیو اسٹیڈیم میں ہندوستانی کبڈی ٹیم نے پاکستان کی ٹیم کو 24-58 سے شکست دے کر پہلا ورلڈ کپ کبڈی مقابلہ جیت لیا۔

2010 - برطانوی-ہندوستانی مصنف رانا داس گپتا کو ان کی تحریر ’’سولو‘‘ کے لیے 2010 کا کامن ویلتھ رائٹرز ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا۔ آسٹریلیائی گلینڈا گیسٹ کی کتاب ’’سڈون راک‘‘ کو یہاں ہونے والے ایوارڈز کے گرینڈ فینالے میں ’’بہترین پہلی کتاب‘‘ کا ایوارڈ ملا۔

2014 - مشہور نغمہ نگار گلزار کو سال 2013 کے لیے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande