ادب، تہذیب اور قومی شعور موضوع حقیقت میں ہندوستانی ثقافتی شعور کے تریوینی سنگم کی علامت : آلوک سنجر
ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ادب، تہذیب اور قومی شعور کے موضوع پر مبنی قومی سیمینار کا انعقاد بھوپال، 5 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ’’قلم کی روشنی‘‘ کے تحت ’’ادب، تہذیب اور قومی شعور‘‘ کے موضوع
ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ادب، تہذیب اور قومی شعور کے موضوع پر مبنی قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ، ادیب و شاعر آلوک سنجر


ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ادب، تہذیب اور قومی شعور کے موضوع پر مبنی قومی سیمینار کا انعقاد


ایم پی اردو اکادمی کے زیر اہتمام ادب، تہذیب اور قومی شعور کے موضوع پر مبنی قومی سیمینار کا انعقاد

بھوپال، 5 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش اردو اکادمی، سنسکرتی پریشد، محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ’’قلم کی روشنی‘‘ کے تحت ’’ادب، تہذیب اور قومی شعور‘‘ کے موضوع پر دو روزہ قومی سیمینار 5 مارچ 2026 کو دوپہر 2 بجے سے مہادیوی ورما ہال، ہندی بھون، پولی ٹیکنک چوراہہ، بھوپال میں شروع ہوا۔

پروگرام کے مہمان خصوصی کے طور پر موجود سابق رکن پارلیمنٹ، ادیب و شاعر آلوک سنجر نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’ ادب، تہذیب اور قومی شعور‘‘ موضوع حقیقت میں ہندوستانی ثقافتی شعور کے ’’تریوینی سنگم‘‘ کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ موضوع گنگا، جمنا اور سرسوتی کی اس ثقافتی دھارا کا مظہر ہے، جس میں کثرت میں وحدت اور روحانی حساسیت کا بہاو مسلسل جاری رہتا ہے۔ اردو زبان کی تہذیب اسی وسیع ہندوستانی روایت سے منسلک ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو اکیڈمی کی طرف سے منتخب کردہ یہ موضوع موجودہ دور میں انتہائی ضروری ہے اور معاشرے میں مثبت فکری ماحول کی تعمیر میں معاون ثابت ہوگا۔

اس سے قبل مدھیہ پردیش اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے دو روزہ قومی سیمینار کے افتتاح پر کہا کہ اردو زبان ہماری تہذیبی شناخت اور قومی شعور کی نمائندہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ادب کے ذریعے نوجوان نسل میں اخلاقی قدروں، وطن سے محبت اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سیمینار اردو زبان و ادب کے فروغ میں موثر ثابت ہوگا۔

دلی سے تشریف لائے معروف ادیب و دانشور خلیل الرحمن ایڈووکیٹ نے ’’اردو زبان و ادب کے تناظر میں تہذیب اور قومی شعور‘‘ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب نے انسان سے انسان کے رشتے، انسان کے کائنات سے رشتے اور فرد کے اپنے وجود سے رشتوں کی تعبیریں کی ہیں اور کیا خوب کی ہیں۔ ادیب زندگی کو اپنی تخیل کی بلندی سے دیکھ کر اسے احساس کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور جذبات کی کٹھالی میں تپا کر کندن بنانے کی کوشش و کاوش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں زندگی سے مراد کسی ایک فرد کی زندگی نہیں، بلکہ وہ مسلسل زندگی ہے جو کائنات کے وجود تک قائم رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج اردو زبان جغرافیائی اور ملکی حدود سے باہر نکل چکی ہے۔ یورپ، لندن، خلیجی ممالک، امریکہ اور کینیڈا میں بھی اردو ادب تخلیق ہو رہا ہے، مگر جہاں کہیں بھی اردو پہنچی ہے، اس نے اپنے ہندوستانی تشخص اور قومی شعور کے جذبے کو برقرار رکھا ہے۔

ادیبہ و شاعرہ نفیسہ سلطانہ انا نے اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب میں وہ وسعت ہےجو ہر قوم کے لوگوں کی شخصیت کو نکھارنے ان کے اخلاق و اطوار کو سدھارنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو میں اپنے مطالعے کو بڑھائیں ، کتابیں پڑھیں کوئی قوم اپنی تہذیب ، اپنی روایات اپنے اقدار سے الگ ہوکر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نئے بھارت کی تعمیر اور نسلِ نو میں تہذیبی شعور کی تشکیل میں والدین ، تعلیمی ادارے اور سوشل میڈیا کی بھی مشترکہ ذمّہ داری ہے ، ان ذرائع سے ایک صحت مند معاشرے کے اصول و ضوابط سے نئی نسل کو روشناس کرایا جاسکتا ہے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض محمود ملک نے بحسن خوبی انجام دیے۔ اس موقع پر طلبہ اور ریسرچ اسکالروں کے منتخب مضامین کی ہیشکس بھی ہوئی۔

پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام مہمانان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

’’ 6 مارچ کے پروگرام‘‘

6 مارچ 2026 کو دوپہر 2.30 بجے منعقدہ دوسرے اجلاس میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین (دہلی)، جناب عباس رضا نیر (لکھنؤ) اور محترمہ عذرا نقوی (نوئیڈا) اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ پروگرام کی نظامت جناب بدر واسطی (بھوپال) کریں گے۔ اس موقع پر منتخب تخلیقات کی پیشکش اور فاتحین کو انعامات سے نوازا جائے گا۔

اس طرح دو روزہ یہ قومی سیمینار ادب، تہذیب اور قومی شعور کے مختلف پہلووں کو واضح کرتے ہوئے اردو زبان و ادب کے ثقافتی کردار کو مستحکم کرنے کی سمت میں ایک بامقصد پہل ثابت ہورہا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande