
پروفیسر انیس الرحمٰن نے ادبی مطالعات اور ہم عصر ترجیحات“ کے عنوان سے پہلا خطبہ پیش کیا
نئی دہلی 05مارچ (ہ س) شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی علمی تاریخ میں ایک روشن باب کا اضافہ ہوا، جب صدر شعبہ پروفیسر کوثرمظہری کی درخواست قبول کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر مظہر ا?صف نے کلیم الدین احمد کے نام سے منسوب ایک نئے سالانہ یادگاری خطبہ کو منظوری عطا کی۔ پہلا کلیم الدین احمد یادگاری خطبہ ممتاز ادیب و دانشور اور ترجمہ نگار پروفیسر انیس الرحمٰن نے ” ادبی مطالعات اور ہم عصر ترجیحات “ کے عنوان سے پیش کیا، انھوں نے کہا کہ ارسطو کے نزدیک ادب تخیل کی بنا پر خلق کردہ حقیقت کے لفظی اظہار کا نام ہے۔ حقیقت ، تخیل اور تجسیم کاری کے باہمی ربط سے کسی زبان میں ادب کی تخلیق عمل میں آتی ہے۔ ادب کی تعریف متعین کرنے میں ادبی تھیوری پیش کرنے والوں نے بہت زیادتی کی ہے۔ در اصل تھیوری کے یہ علم بردار ایک نوع کے فلسفی ہیں جو لفظی گورکھ دھندے میں معانی سے اکثر اجتناب کر جاتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ادبی ترفع کی چار منزلیں ہیں: پہلی منزل پیکر ، دوسری استعارہ، تیسری علامت اور آخری منزل اسطور سازی۔ انھوں نے ایک اہم سوال قائم کیا کہ ہم عصریت کیا ہے؟ پھر اس کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم عصر وہ نہیں جس کا تعلق زمانہ حال سے ہو، بلکہ جب لمحہ حاضر لمحہ گذشتہ میں اپنی شبیہ دیکھے اور اس کے بر عکس لمحہ گذشتہ کے نقوش لمحہ حاضر میں نظر آئیں تو وہ ایک دوسرے کے ہم عصر ہو جاتے ہیں۔ ہم عصر کا لیبل در اصل زمانے کا نہیں بلکہ رویے کی نشان دہی کرتا ہے۔
صدارتی خطبے میں پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ شعبہ کے لیے یہ لمحہ مسرت ہے کہ اس کی تاریخ میں ایک اور اہم یادگاری خطبہ کا اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی کی کرم فرمائیاں شامل رہیں۔ انھوں نے نہال پیشی کے ذریعے پروفیسر انیس الرحمٰن کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کلیم الدین احمد یادگاری خطبہ کے لیے پروفیسر انیس الرحمٰن جیسے ممتاز، دانشور ترجمہ نگار سے بہتر انتخاب اور کیا ہو سکتا تھا۔ انھوں نے ادبی مطالعات اور ہم عصر ترجیحات کے عنوان سے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے وہ نہ صرف صاف شفاف ہے بلکہ اس میں زندگی کے تجربات کی آمیزش بھی ہے۔
باضابطہ استقبالیہ کلمات میں خطبے کے کنوینر پروفیسر شہزاد انجم نے کلیم الدین احمد اور مہمان مکرم پروفیسر انیس الرحمٰن کے علمی کارناموں کا تعارف پیش کیا۔ پروفیسر سرور الہدیٰ نے کلیم الدین احمد کا مبسوط حیات نامہ پیش کرتے ہوئےان کے تنقیدی ابعاد و جہات کا مفصل احاطہ کیا۔ خطبے کا آغاز ڈاکٹر شاہنواز فیاض کی تلاوت سے ہوا۔ اس موقع پر پروفیسر احمد محفوظ ، پروفیسر ندیم احمد ، پروفیسر شاہ عالم ، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر خالد مبشر، ڈاکٹر مشیر احمد ، ڈاکٹر محمد مقیم ، ڈاکٹر جاوید حسن اور ڈاکٹر راہین شمع کے علاوہ شعبے کےاساتذہ ، ریسرچ اسکالر اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais