
ریاض،04مارچ(ہ س)۔سعودی کابینہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں خطے میں حالیہ واقعات اور ان کے علاقائی اور عالمی امن و استحکام پر اثرات کا جائزہ لیا۔کابینہ نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب اپنی حفاظت اور سرزمین، شہریوں اور مقیم افراد کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔کابینہ نے سعودی عرب کے موقف کو دہرایا اور اس بات پر زور دیا کہ وہ ان بھائیانہ ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے جن کی زمینیں ایرانی جارحیت کا نشانہ بنی ہیں۔ ان کی ہر ممکن مدد کرے گا تاکہ وہ اپنی سیکیورٹی اور خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھ سکیں۔کابینہ نے پچھلے چند دنوں میں خطے میں ہونے والی پیش رفت اور اس کے سنگین اثرات کے حوالے سے ہونے والی بات چیت اور مشاورت کا بھی جائزہ لیا اور ان ممالک کے رہنماو¿ں کی جانب سے سعودی عرب، خلیج تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر ہونے والے ایرانی حملوں کی شدید مذمت کو سراہا۔
اسی سلسلے میں کابینہ نے خلیج تعاون کونسل کے شہریوں کے لیے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر فراہم کی جانے والی سہولیات اور مہمان نوازی کا بھی جائزہ لیا، تاکہ ان کے آرام اور سہولت کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں اور انہیں جلد از جلد ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔کابینہ نے سعودی عرب کی علاقائی اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شمولیت کے نتائج پر غور کیا اور اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس سے نکلنے والے نتائج کو فلسطینی بھائیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے جائز موقف کی حمایت کے لیے اہم قرار دیا۔کابینہ نے یمن کی حکومت کو سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی نئی اقتصادی معاونت کو بھی سراہا، جسے یمن کے عوام کی حمایت اور استحکام و ترقی کے قیام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا گیا، اس سے دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے۔معاشی ترقی: کابینہ نے ’الجافورہ‘ گیس فیلڈ کے پہلے مرحلے میں پیداوار شروع ہونے اور ’گیس کی تلاش‘کے آپریشنز کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا اور دیگر گیس منصوبوں کی ترقی کو سعودی عرب کی اقتصادی نمو کے اہداف کے حصول میں اہم قرار دیا۔قومی پالیسیاں: کابینہ نے صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینے کی قومی پالیسی کی منظوری دی اور ساتھ ہی تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے لیے قومی پالیسی کی بھی منظوری دی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan