
تہران،04مارچ(ہ س)۔ایران اور اسرائیل/امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے پانچویں دن کے بعد ابنائے ہرمز میں بحری ٹریفک تقریباً رک گئی۔ S&P Global Commodities at Sea کے مطابق پچھلے پیر کو صرف دو تیل اور کیمیکل ٹینکرز اس اہم گزرگاہ سے گزر سکیں، جو اتوار کو پانچ جہازوں کے مقابلے میں کم تھا۔اسی دن اس کے علاوہ صرف سات دیگر جہاز گزر سکے جو اتوار کے بیس جہازوں اور معمول کے تقریباً 75 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے، جیسا کہ سی این این نے رپورٹ کیا۔عام حالات میں روزانہ تقریباً 60 ٹینکرز اور کیمیکل جہاز مضیق ہرمز سے گزرتے ہیں، جو دنیا کے روزانہ استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ لے کر جاتے ہیں۔یہ ر±کاو¿ٹ ایرانی فوج کی جانب سے قریب موجود جہازوں پر حملے کے خدشات اور جہازوں کے لیے جنگی خطرے کی انشورنس کوریج منسوخ ہونے کے بعد سامنے آیا۔اس صورتحال نے اس ہفتے عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ میں اہم کردار ادا کیا۔ایران کا توانائی شعبے کو نشانہ بنانا عالمی اثرات پیدا کر رہا ہے، نیو یارک کے سوفان ریسرچ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کا توانائی کے شعبے کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا موجودہ تنازعہ کو ایک نئے اور خطرناک پہلو میں لے گیا ہے۔سینٹر کے مطابق یہ تنازعہ اب صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہا۔ ایران دنیا کی توانائی کی شریانوں پر حملے کے ذریعے عالمی معیشت پر اثر ڈالنے کی اپنی صلاحیت کا پیغام دے رہا ہے۔فضائی تصاویر سے دیکھا گیا کہ مضیق ہرمز اہم تیل کی سپلائی لائن پر موجود ہے، جسے ایران کے خطرات نے متاثر کیا ہے۔اس صورتحال کے باعث عالمی تیل کی قیمتیں آج بدھ کو ایک ڈالر سے زیادہ بڑھ گئیں۔ برنٹ کروڈ 1اعشاریہ11 ڈالر یا 1اعشاریہ4 فیصد اضافے کے ساتھ 82اعشاریہ53 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ ویسٹ ٹیکساس مڈیم امریکی خام تیل 79 سینٹ یا 1اعشاریہ1 فیصد اضافے کے بعد 75اعشاریہ37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔گذشتہ منگل کو برنٹ کروڈ نے جنوری 2025 کے بعد سب سے زیادہ بند ہونے کی قیمت دیکھی تھی اور امریکی خام نے جون کے بعد سب سے زیادہ سیٹلمنٹ کی۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضروری ہوا تو امریکی بحریہ تیل کی ٹینکرز کی حفاظت کے لیے مضیق ہرمز کے راستے ان کا ہمراہ ہو سکتی ہے تاکہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔مزید برآں انہوں نے امریکی بین الاقوامی ترقیاتی مالیاتی ادارے کو ہدایات دیں کہ وہ سیاسی خطرات کے خلاف انشورنس فراہم کرے اور خلیج کے راستے ہونے والی بحری تجارت کی مالی ضمانتیں یقینی بنائے۔تاہم جہاز مالکان اور تجزیہ کار سوال کر رہے ہیں کہ آیا یہ فوجی حفاظت اور انشورنس سپورٹ اعتماد بحال کرنے کے لیے کافی ہوں گے یا نہیں۔اسی دوران دنیا کی کئی ریاستیں اور کمپنیاں متبادل توانائی کے راستے اور سپلائی چین تلاش کر رہی ہیں۔ بھارت اور انڈونیشیا نے کہا کہ وہ دیگر توانائی کی فراہمی کے ذرائع تلاش کر رہے ہیں، جبکہ کچھ چینی ریفائنریز نے اپنے دروازے بند کر دیے یا دیکھ بھال کے منصوبے پیش کیے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan