اردو اکادمی، دہلی کا شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ”سر سنگم“ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
نئی دہلی، 30 مارچ(ہ س)۔دہلی میں موسم کے ہر لمحہ رنگ بدلتے مزاج کے باوجود اردو اکادمی، دہلی کے شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام کے تیسرے اور آخری دن شائقین کی ریکارڈ تعداد میں شرکت نے اس پروگرام کی کامیابی میں چار چاند لگا دیے۔ مشاعروں، غزل گائی
اردو اکادمی، دہلی کا شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ”سیر سنگم“ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر


نئی دہلی، 30 مارچ(ہ س)۔دہلی میں موسم کے ہر لمحہ رنگ بدلتے مزاج کے باوجود اردو اکادمی، دہلی کے شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام کے تیسرے اور آخری دن شائقین کی ریکارڈ تعداد میں شرکت نے اس پروگرام کی کامیابی میں چار چاند لگا دیے۔ مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل اس پروگرام کے تینوں دن اہلِ دہلی کی بڑی تعداد میں شرکت اردو اکادمی، دہلی کی سرگرمیوں میں عوام کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور اکادمی کے ذمہ داران کی انتھک محنت کی گواہ ہے۔”سر سنگم“ کے تیسرے اورآخری دن کا آغاز ایک شاندار مشاعرے سے ہوا، جس میں ملک کے ممتاز اور سینئر شعرا کے ساتھ ساتھ ابھرتے ہوئے اور نوجوان شعرا نے بھی شرکت کی۔ اس مشاعرے کی نظامت معروف شاعر اور ناظمِ مشاعرہ جناب شکیل جمالی نے کی۔ انھوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی کی خدمات اور اس کی متنوع سرگرمیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردو اکادمی، دہلی اپنی فعالیت کی وجہ سے ملک بھر میں ایک امتیازی شناخت کی حامل ہے۔ اردو اکادمی کے عہدیداران زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے خلوصِ دل سے کوشاں ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ اکادمی کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اردو اکادمی سینئر شعرا اور فنکاروں کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے شعرا اور فنکاروں کو بھی لگاتار اسٹیج فراہم کر کے ان کی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مشاعرے میں شکیل جمالی، راشدہ باقی حیا، اقبال فردوسی، امیر امروہوی اور قاصر سہسوانی جیسے سینئر شعرا کے ساتھ ساتھ سلیم کاشف، فروغ احسن، شاکر دہلوی، خوشبو سکسینہ اور حبیب الرحمٰن جیسے نئی نسل کے نمائندہ شعرا نے بھی اپنے کلام سے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار میں سے چند منتخب اشعار ملاحظہ کیجیے:لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیںعشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیںشکیل جمالییہ جہاں گر کبھی انعامِ وفا دے مجھ کویہ بھی ممکن ہے کہ سولی پہ چڑھا دے مجھ کوراشدہ باقی حیاجب مجھے دردِ کمر یاد آیاان کی مالش کا ہنر یاد آیااقبال فردوسیسو گیا حسن کی آغوش میں سر رکھ کے کوئیاور کوئی خاک اڑاتا پھرا صحرا صحراامیر امروہویمیں نے یہ سوچ کے لہجہ نہیں بدلا اپنازندہ رہنا تھا مجھے اپنے ہی کردار کے ساتھسلیم کاشفسانس لے لو بیٹھ جاو سوچ معیاری رکھووقت کروٹ لے رہا ہے اپنی تیاری رکھوفروغ احسنتم سے ٹکرائے تو ہوا معلومحادثے خوش نما بھی ہوتے ہیںشاکر دہلویدروازے بن جاتے ہیں دیواروں میںدروازہ دیوار اگر ہو جائے توخوشبو سکسینہاب میری باری آئے گی میں صبر والا ہوںتیری طرف سے وار تو بھرپور ہو گیاقاصر سہسوانیدل یہ کہتا ہے کہ اک روز پلٹ آئیں گےاپنی یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے لوگحبیب الرحمٰنمشاعرے کے اختتام پر محکمہ فن، ثقافت اور السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے انھیں پودے پیش کیے۔اس کے بعد دوسرا پروگرام ”غزلوں کی سرگوشی“ منعقد ہوا، جس میں عامر خان نے اپنی شاندار پیش کش سے سامعین کے دل جیت لیے۔ بیچ میں چند لمحوں کے لیے ہونے والی بارش بھی سامعین کو اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور نہ کر سکی، بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔

ا?خر میں درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءکے درباری قوال حیدر نظامی، حسن نظامی اور عمران نظامی کی قیادت میں نیازی نظامی برادرس کی ٹیم نے اپنی شاندار قوالیوںسے پوری محفل میں سماں باندھ دیا۔ ان کی صوفیانہ قوالیوں نے سامعین کو روحانی تسکین سے ہمکنار کیا۔پروگرام کے اختتام پر جناب لیکھ راج نے مہمان فنکاروں کا استقبال کرتے ہوئے سامعین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ”س?ر سنگم“ کے تیسرے دن کے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض اطہر سعید نے انجام دیے۔ انھوں نے بارش کی ہلکی ہلکی بوندوں کے باوجود سامعین کو منتشر نہیں ہونے دیا اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس موقع پر اردو اکادمی، دہلی نے حکومتِ دہلی اور محکمہ? فن، ثقافت و السنہ کے وزیرِ محترم جناب کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کے لیے خصوصی طور پر اظہارِ تشکر بھی کیا، جن کی حمایت اور رہنمائی سے ایسے ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو سکا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande