معیشت سے ناواقفیت امت کے لیے نقصان دہ، ممبرا میں امید فاونڈیشن کے تحت پروگرام کا انعقاد
ممبرا،30مارچ(ہ س)۔ ممبرا میں امید فاونڈیشن کے زیرِ اہتمام مراد اسکول میں ’علماءاور معیشت‘ کے عنوان پر ایک اہم اور منفرد یک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممبرا اور اطراف کے علماءکرام، ائمہ مساجد، حفاظ عظام اور مدرسین نے بڑی تعداد میں
معیشت سے ناواقفیت امت کے لیے نقصان دہ،ممبرا میں امید فاونڈیشن کے تحت پروگرام کا انعقاد


ممبرا،30مارچ(ہ س)۔ ممبرا میں امید فاونڈیشن کے زیرِ اہتمام مراد اسکول میں ’علماءاور معیشت‘ کے عنوان پر ایک اہم اور منفرد یک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ممبرا اور اطراف کے علماءکرام، ائمہ مساجد، حفاظ عظام اور مدرسین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد لاتور سے آئے مفتی صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں واضح کیا کہ اس ورکشاپ کا مقصد علماءکو مالی مجبوریوں سے نکال کر باوقار معاشی استحکام کی راہ دکھانا ہے۔ پروگرام کی نمایاں نشست میں معروف اسلامی اسکالر اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر مفتی اشفاق قاضی نے تفصیلی اور بصیرت افروز خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر مقصد بڑا ہو اور نگاہیں دور تک ہوں تو معیشت کو سمجھنا ناگزیر ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے امت کی صحیح رہبری ممکن ہے، انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ معیشت سے ناواقفیت کی وجہ سے بڑے مالی نقصانات پیش آتے ہیں اور علماءاگر جدید معاشی نظام، اس کی اصطلاحات اور ٹرمینالوجی کو سمجھ لیں تو ان کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے 2006 سے اس میدان میں کام شروع کیا اور آج بڑی کمپنیوں کو شریعہ ایڈوائزری فراہم کر رہے ہیں، جس کی فیس لاکھوں روپے تک ہوتی ہے، اور علماءکو بھی اس سمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی، اپنے خطاب میں انہوں نے صلاحیتوں کی ترقی، جز وقتی روزگار، کم سرمایہ سے کاروبار کے امکانات اور بچت و سرمایہ کاری کے اصولوں پر عملی رہنمائی فراہم کی، جبکہ اس موقع پر50 علماءکے اکاو¿نٹس کھولنے اور انہیں تقریباً50 ہزار روپے بطور تعاون فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا۔، دریں اثناءورکشاپ سے ڈاکٹر عبدالماجد انصاری (وائس پرنسپل، مہاراشٹر کالج) نے بلاسود مالی نظام پر خطاب کیا انہوں نے کہا کہ یہ نظام معاشی انصاف کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، اور عملی طور پر10 علماءکو10 ہزار روپے کے بلاسود قرض بھی فراہم کیے گئے۔ اس موقع پر دو کامیاب عملی مثالیں بھی پیش کی گئیں، جن میں ایک عالم دین نے6200 روپے سے بیکری کاروبار شروع کر کے اسے کامیاب ہول سیل نظام میں تبدیل کرنے کا تجربہ بیان کیا، جبکہ مولانا جنید (امام کوسہ جامع مسجد) نے سائیکل کی دکان کے ذریعے امامت کے ساتھ معاشی استحکام حاصل کرنے کی مثال پیش کی۔ پروگرام کے اختتام پر پرویز فرید (روح رواں امید فاونڈیشن) نے علماءکی مشترکہ ایسوسی ایشن کے قیام کی تجویز پیش کی تاکہ مختلف مکاتب فکر کے علماءمتحد ہو کر دینی و سماجی خدمات کو مزید مو¿ثر بنا سکیں، بعد ازاں تمام شرکاءمیں اسناد تقسیم کی گئیں، اور علماءکرام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے عملی اور رہنمائی فراہم کرنے والے پروگرام آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande