اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’سیر سنگم‘ کے دوسرے دن ملک کے نمائندہ شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو مسحور کیا
نئی دہلی، 29 مارچ(ہ س)۔دلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ”سر سنگم“ کے دوسرے دن شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو جھومنے پر م
اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام ’سیر سنگم‘ کے دوسرے دن ملک کے نمائندہ شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو مسحور کیا


نئی دہلی، 29 مارچ(ہ س)۔دلی کا دل کہے جانے والے کناٹ پلیس میں واقع سینٹرل پارک میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ”سر سنگم“ کے دوسرے دن شعرا اور فنکاروں نے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ جشن کے دوسرے دن کا ا?غاز شعری نشست سے ہوا، جس کی صدارت معروف شاعر و ادیب شعیب رضا فاطمی نے کی اور نظامت کے فرائض نوجوان ناظمِ مشاعرہ ہلال بدایونی نے انجام دیے۔ مشاعرے کے ا?غاز سے قبل محکمہ فن، ثقافت و السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج نے اسٹیج پر موجود شعرا کے ساتھ شمعِ مشاعرہ روشن کی۔ بعد ازاں جناب لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے ان کی خدمت میں خوبصورت پودے بطور یادگاری تحفہ پیش کیے۔صدرِ مشاعرہ جناب شعیب رضا فاطمی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اردو اکادمی، دہلی کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ ملک بھر میں کوئی بھی ادارہ اردو اکادمی، دہلی سے زیادہ فعال نظر نہیں آتا۔ انھوں نے کہا کہ زبان و ادب، تہذیب و ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی تمام اقسام، بشمول شاعری و موسیقی کو فروغ دینے کے لیے اکادمی کی کوششیں نہ صرف لائقِ تحسین بلکہ قابلِ تقلید بھی ہیں۔انھوں نے اس سلسلے میں دہلی حکومت اور محکمہ? فن، ثقافت و السنہ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ا?ج کے ماحول میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، زبان و ادب اور فنونِ لطیفہ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششیں بھرپور داد کی مستحق ہیں۔مشاعرے میں جاوید قمر، سلمیٰ شاہین، احمد علوی، شعیب رضا فاطمی،مجاہد فراز، وارث وارثی، جاوید نیازی، سالم سلیم ، سریتا جین اور ہلال بدایونی نے اپنے کلام سے سامعین کے ذوق کو تسکین بخشی۔ منتخب اشعار درج ذیل ہیں:

میرے پریتم بھیج دے خط میں لکھ کر وہ سندیش

جس کے سر پر ناچ رہی تھی کل تک اپنی پریت

شعیب رضا فاطمی

جو پھول تم نے دیا تھا اب تک کھلا ہوا ہے

کبھی جو راتیں گلاب کرنا تو یاد کرنا

جاوید قمر

اس تعلق کا کوئی رنگ نہ ڈھلنے پایا

تذکرہ شعروں میں اب بھی اسی گلفام کا ہے

سلمیٰ شاہین

بحروں میں کہنے والے پہنچے نہ اوکھلا تک

بے بحر کہنے والے بحرین جا رہے ہیں

احمد علوی

ہمیشہ برف کی صورت پگھلتی رہتی ہے

پتا چلے نہ چلے عمر ڈھلتی رہتی ہے

مجاہد فراز

جب لوگ اتحاد کے سانچے میں ڈھل گئے

پھر یوں ہوا چراغ ہواو¿ں میں جل گئے

وارث وارثی

قریب سے ترا دیدار ہو گیا ہوتا

میں تیری صبح کا اخبار ہو گیا ہوتا

ہلال بدایونی

بزم سے اس نے پھر نکال دیا

ابھی بیٹھا ہی تھا میں آکر کے

سالم سلیم

کیا خبر کون سا کل خواب شجر ہو جائے

خواب یہ سوچ کے ہم روز نئے بوتے ہیں

جاوید نیازی

کچھ بھی نہیں سوائے محبت کے دوستو!

چاہے جہاں سے پڑھ لو مری داستان تم

سریتا جین

مشاعرے کے بعد غزل گلوکار سیف نعیم علی نے ”غزل کی سرگوشی“ کے تحت شاندار غزل گائیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کو مسحور کر دیا۔ سیف نعیم علی کی پرسوز ا?واز اور بہترین فنکاری سامعین کے دلوں کو چھو گئی۔ اس کے بعد دوسرے دن کے ا?خری پروگرام میں غفران نظامی اور ان کی ٹیم نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندگی کرنے والی قوالیوں کی شاندار پیش کش سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔

اس موقع پر سینٹرل پارک میں سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ اکادمی کے اس پروگرام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پروگرام کے ا?خر تک تمام نشستیں بھری ہوئی تھیں اور لوگ دور تک کھڑے ہو کر شاعری اور موسیقی کے اس حسین سنگم سے محظوظ ہو رہے تھے۔ اردو اکادمی، دہلی کی کوشش یہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت کی خوبصورتی کو پہنچائے، خاص طور پر نئی نسل کو ہندوستانی ثقافت کی شاندار روایت سے روشناس کرائے۔ اس سلسلے میں اکادمی کے دیگر پروگراموں کی طرح ”سیر سنگم“ بھی نہایت شاندار ثابت ہو رہا ہے اور سامعین کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد اس کا واضح ثبوت ہے۔

”سیر سنگم“ کے دوسرے دن منعقد ہونے والے تمام پروگراموں کی نظامت کے فرائض ریشماں فاروقی نے بحسن و خوبی انجام دیے اور اپنے دلکش و دلنشیں اندازِ گفتگو اور خوب صورت نظامت سے سامعین کو باندھے رکھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande