
علی گڑھ, 29 مارچ (ہ س)۔
علی گڑھ کے ٹپّل تھانہ علاقہ کے گاؤں نگلیا جڑانا کے رہائشی گزشتہ تقریباً 15 برسوں سے ڈیڑھ کلومیٹر طویل کچی سڑک کو پکی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، مگر اب تک ان کی یہ مانگ پوری نہیں ہو سکی۔
دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب کے وقت عوامی نمائندے وعدے تو کرتے ہیں، لیکن جیتنے کے بعد مسئلہ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ مسلسل نظراندازی سے ناراض گاؤں والوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد سڑک کی تعمیر شروع نہ ہوئی تو وہ پنچایت انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔
گاؤں کے رہائشی یتیندر کمار شرما عرف شینکی کے مطابق، یہ کچا راستہ گاؤں کو سالپور روڈ سے جوڑتا ہے اور اسی راستے سے بچے دو انٹر کالج اور ایک پرائمری اسکول میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔ برسات کے موسم میں یہ سڑک کیچڑ میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے آمد و رفت نہایت دشوار ہو جاتی ہے۔
دیہی باشندوں نے بتایا کہ خراب راستے کی وجہ سے دو مرتبہ اسکول بس بھی الٹ چکی ہے، جس سے بچوں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ بصیر خان، سبھاش شرما سمیت کئی افراد نے کہا کہ رہنما صرف ووٹ لینے کے لیے وعدے کرتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں بھول جاتے ہیں۔
گاؤں والوں کے مطابق، تقریباً چھ ماہ قبل یہ مسئلہ رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم کے سامنے بھی اٹھایا گیا تھا، لیکن اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔گاؤں کی پردھان شیتل دیوی نے بتایا کہ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ستیش گوتم اور بی جے پی ضلع صدر کرشن پال سنگھ کو تحریری شکایت بھی دی ہے، مگر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ