
نئی دہلی،28 مارچ(ہ س)۔ اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام دہلی کے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ”س?ر سنگم“ کے عنوان سے مشاعروں، غزل گائیکی اور قوالی پر مشتمل تین روزہ ثقافتی جشن کا شاندار آغاز ہوا۔ اس تقریب کا افتتاح محکمہ¿ فن، ثقافت اور السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری جناب لیکھ راج کے ہاتھوں شمع افروزی کے ساتھ انجام پایا۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے جناب لیکھ راج نے کہا کہ دہلی حکومت اور محکمہ? فن، ثقافت اور السنہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ دارالحکومت کی گنگا جمنی تہذیب، ادبی روایات اور موسیقی و فنونِ لطیفہ کو فروغ دیا جائے۔ انھوں نے وزیرِ ثقافت عزت ما?ب جناب کپل مشرا کی سرپرستی اور دہلی حکومت کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف ہندوستانی زبانوں بالخصوص اردو کے فروغ اور اس سے وابستہ تہذیبی اقدار کی ترویج کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو اکادمی، دہلی نہ صرف ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے بلکہ کتابوں کی اشاعت، ادبی نشستوں، سمیناروں، مشاعروں، موسیقی کے پروگراموں اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں سرگرمِ عمل ہے۔ ”س?ر سنگم“ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے ذریعے عوام کو براہِ راست کلاسیکی اور روایتی فنون سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردو اکادمی ،دہلی اس طرح کی ثقافتی تقاریب کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ نئی نسل کو اردو زبان، اس کے ادب اور اس سے وابستہ موسیقی و ثقافت سے روشناس کرایا جا سکے۔انھوں نے اہلِ ذوق سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کے پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنی ادبی و ثقافتی روایتوں کو زندہ رکھنے میں تعاون کریں۔
”سیر سنگم“ کے پہلے دن کا ا?غاز شاندار مشاعرے سے ہوا، جس میں ملک بھر کے نمائندہ شعرا نے شرکت کی۔ جناب لیکھ راج نے مہمان شاعروں کا استقبال کرتے ہوئے انھیں یادگاری طور پر خوبصورت پودے پیش کیے۔ مشاعرے کی صدارت معروف شاعر اور دوہوں کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھنے والے جناب قمر انجم نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض معروف ناظمِ مشاعرہ اور بین الاقوامی شہرت کے حامل جناب معین شاداب نے انجام دیے۔مشاعرے میں انا دہلوی، تسلیم دانش،فریدقریشی، انل اگریونشی، اختر اعظمی، التمش عباس اور خصال مہدی نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ چنندہ اشعار درجِ ذیل ہیں:
سر کے سارے پاپ میں بن بیٹھا انجان
سر پر پھوڑاٹھیکرا جا تیرے شیطان
قمر انجم
نکلتے وقت ان کے دل سے یہ محسوس ہوتا ہے
دوبارہ جیسے جنت سے نکالے جا رہے ہیں ہم
معین شاداب
چاند سے پوچھو یا پوچھو میرے دل سے
تنہا کیسے رات بتائی جاتی ہے
انا دہلوی
یاد رکھنے میں اسے خرچ بہت ا?تا تھا
اب کبھی یاد کیا بھول گیا کافی ہے
تسلیم دانش
ہنسنا ہنسانا عادت ہے میری،اپنا بنانا عادت ہے میری
لوگ منہ پھیر کے چلتے ہیں، آواز دے کے بلانا عادت ہے میری
انل اگریونشی
اس طرح سے بھی مجھ کو ڈبویا گیا
میری کشتی کنارے لگا دی گئی
اختر اعظمی
شروع عشق میں انساں بہت پرجوش رہتا ہے
پھر اس کے بعد ساری زندگی خاموش رہتا ہے
التمش عباس
انھیں مجھ سے محبت اب نہیں ہے
وفا میں وہ صداقت اب نہیں ہے
خصال مہدی
مشاعرے کے بعد نوجوان گلوکارہ ودوشی نے اپنی مترنم آواز میں غزل گائیکی سے سامعین کو محظوظ کیا۔ آخری پروگرام میں سلطان نیازی اور عثمان نیازی کی سربراہی میں آفیشیل نیازی برادرز کی ٹیم نے شاندار قوالی پیش کر کے محفل میں سماں باندھ دیا اور حاضرینِ محفل سے بھرپور داد وصول کی۔
اس موقع پر سینٹرل پارک میں سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی،جنھوں نے ادب اور موسیقی کے اس خوب صورت امتزاج سے بھرپور لطف اٹھایا۔ اردو اکادمی ،دہلی کا مقصد بھی یہی ہے کہ اردو زبان و ادب اور اس سے وابستہ تہذیبی و ثقافتی فنون کو زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچایا جائے۔ اسی مقصد کے تحت اکادمی کی ٹیم نے دہلی کے قلب میں واقع کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک کو اس ثقافتی جشن کے لیے منتخب کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان پروگراموں سے مستفید ہو سکیں۔
واضح رہے کہ ”س?ر سنگم“ کے عنوان سے اردو اکادمی، دہلی کا یہ تین روزہ ثقافتی پروگرام 27 سے 29 مارچ تک ہر روز شام 5 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران ہر روز مشاعرہ، غزل گائیکی اور قوالی کی محفلیں منعقد ہوں گی، جن میں نامور فنکار اور شعرا اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔”سیر سنگم“ کے پہلے دن کے تمام پروگراموں کی نظامت اطہر سعید نے کی اور اپنی دلکش نظامت سے سامعین کو پوری طرح محفل وابستہ رکھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais