برطانیہ کی پہلی خاتون اولمپک گولڈ میڈلسٹ میری رینڈ 86 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں
نئی دہلی، 28 مارچ (ہ س)۔ برطانوی ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپئن میری رینڈ کا 86 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ اولمپک کی تاریخ میں ایک ہی کھیلوں میں تین تمغے جیتنے والی پہلی برطانوی خاتون تھیں۔ 1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں میری رینڈ کی شاندار کارکردگ
Sports-Athletics-BritishOlympi-MaryRand-dies


نئی دہلی، 28 مارچ (ہ س)۔ برطانوی ایتھلیٹ اور اولمپک چیمپئن میری رینڈ کا 86 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔ وہ اولمپک کی تاریخ میں ایک ہی کھیلوں میں تین تمغے جیتنے والی پہلی برطانوی خاتون تھیں۔

1964 کے ٹوکیو اولمپکس میں میری رینڈ کی شاندار کارکردگی، لمبی چھلانگ میں سونے، پینٹاتھلون میں چاندی، اور 4x100میٹر ریلے میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔ ان کی یہ کارکردگی ، انہیں اس دور کی سب سے متاثر کن ایتھلیٹس میں سے ایک بناتی ہے۔

یو کے ایتھلیٹکس نے ان کی موت پر سوگ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رینڈ اپنے کیریئر کے آغاز سے ہی ایک ٹریل بلیزر(راہ دکھانے والی) تھیں۔ صرف 17 سال کی عمر میں، انہوں نے پینٹاتھلون میں اپنا پہلا برطانوی ریکارڈ قائم کیا اور اس کے کچھ ہی وقت بعد، انہوں نے کارڈف میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں لمبی چھلانگ میں چاندی کا تمغہ جیت کر بین الاقوامی اسٹیج پر قدم رکھا۔

رینڈ نے ٹوکیو اولمپکس میں 6.76میٹر کی چھلانگ لگا کر عالمی ریکارڈ بھی بنایا، جسے اس وقت ایک تاریخی کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔

یو کے ایتھلیٹکس کے مطابق، رینڈ کے گولڈ میڈل نے پوری ٹیم کو متاثر کیااور اس سے ترغیب حاصل کربرطانوی دستے کے لیے کل 12 تمغے حاصل کیے۔ ان کی ساتھی اور 800 میٹر اولمپک چیمپئن این پیکر نے بھی کہا کہ میری کی جیت نے ٹیم کے اعتماد کو بڑھایا۔ برطانوی ایتھلیٹکس میں میری رینڈ کی شراکت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے باعث ترغیب رہیں گی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande