اسپتال سے واپسی کے بعد اروناچل پردیش کی انائی نےیادگار کے آئی ٹی جی میں سونے کا تمغہ جیتا
رائے پور، 28 مارچ (ہ س)۔ اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ ویٹ لفٹر انائی وانگسو نے اسپتال سے واپسی کے بعد کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز (کے آئی ٹی جی ) میں گولڈ میڈل جیتا۔ کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے پہلے ایڈیشن کے لیے رائے پور روانہ ہونے سے چند
KITG-Arunachal-Anai-Gold


رائے پور، 28 مارچ (ہ س)۔ اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والی 21 سالہ ویٹ لفٹر انائی وانگسو نے اسپتال سے واپسی کے بعد کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز (کے آئی ٹی جی ) میں گولڈ میڈل جیتا۔

کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے پہلے ایڈیشن کے لیے رائے پور روانہ ہونے سے چند دن پہلے اروناچل پردیش کی جواں سال ویٹ لفٹر انائی اسپتال کے بستر پر تھیں۔ ان پرانی گیسٹرک کی تکلیف ایک بار پھر ابھر آئی تھی اور ان کی طاقت کو بحال کرنے کے لیے انہیں انٹراوینس فلوڈ پر رکھا گیا تھا۔ایسی صورتحال میں ان کی گیمز میں شرکت پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔

حالانکہ انائی یہ جدوجہد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 2019 سے وہ اس بیماری سے لڑ رہی ہے، جو بغیر کسی وارننگ کے انہیں کمزور، ڈی ہائیڈریٹ اور تھکا ہوا بنا دیتی ہے۔ اس جسمانی چیلنج کے سامنے جھکنے کے بجائے، انائی نے مقابلہ کیا۔ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے ایک دن بعد،وہ اپنے کیریئر کی”قریب آکر محروم رہ جانے“ کہانی کو تبدیل کرنا چاہتی تھیں۔

خواتین کے 58 کلوگرام زمرے میں سونے تمغہ جیتنے کے بعد انائی نے یہاں سائی میڈیا کے حوالے سے بتایا،”میں نے پہلے کانسے اور چاندی کے تمغے جیتے تھے اور میرے خاندان میں ہر کوئی پوچھتا رہا کہ میں سونے کا تمغہ کب جیتوں گی۔ اب سب بہت خوش ہیں کہ میں نے آخر کار یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔“

اس سے قبل انائی نے یوتھ نیشنلز میں دو کانسے کے تمغے جیتے تھے۔ انہوں نے کھیلو انڈیا کے مختلف مقابلوں میں بھی تمغے جیتے، لیکن ہربار وہ گولڈ میڈل سے محروم رہ جاتی تھیں۔

پچھلے سال، آل انڈیا یونیورسٹی نیشنلز میں، وہ صرف ایک لفٹ سے سونے کا تمغہ جیتنے سے محروم رہ گئیں کیونکہ ایک منٹ کی وقت کی حد ختم ہو گئی تھی۔ اس لمحے کا درد آج بھی اس کے دل میں موجود ہے۔ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس دن بہت روئی تھی۔ ایسا لگا کہ میری ساری محنت رائیگاں گئی۔

وانگچو قبیلے سے تعلق رکھنے والی، انائی کا ویٹ لفٹنگ کا سفر ان کے بڑے بھائی سنچاڈ بانسو کے خوابوں سے جڑا ہوا ہے، جو قومی سطح کے ویٹ لفٹر ہیں اور اب اروناچل پردیش پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ سنچاڈ ہی تھے جو انہیں سب سے پہلے ایٹا نگر میں اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے مرکز میں ٹرائلز کے لیے لے گئے۔ شروع میں، انائی کو اس کھیل میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ باکسر بننا چاہتی تھیں، خاص طور پر میری کوم کی فلم سے متاثر ہو کر، لیکن ان کے بھائی نے انہیں قائل کیا اور ویٹ لفٹنگ پر توجہ دینے کی ترغیب دی۔ جلد ہی، انائی کو لکھنو¿ میں این سی او ای (نیشنل سینٹر آف ایکسیلنس) میں اعلیٰ تربیت کے لیے منتخب کیا گیا۔ تاہم، کووڈ-19 وبائی مرض کے دوران، انہیں اروناچل واپس جانا پڑا، جہاں مناسب غذائیت اور وسائل کی کمی نے اس کے معدے کی پریشانی کو بڑھا دیا۔

انائی نے کہا کہ میں بہت محنت کرتی ہوں لیکن بعض اوقات میری طبیعت اچانک بگڑ جاتی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرا جسم میرا ساتھ کیوں نہیں دیتا۔ہندوستان کے لیے کھیلنے کا خواب دیکھنے والی انائی نے مزید کہا کہ یہاں سونے کا تمغہ جیتنے سے انھیں یہ اعتماد ملتا ہے کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande