

کٹھمنڈو، 28 مارچ (ہ س)۔ نیپال کے وزیر داخلہ سودن گرونگ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کی گرفتاری انتقامی کارروائی نہیں ہے۔ سودن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ قدم انصاف کے آغاز کی علامت ہے۔
انہوں نے لکھا، ’’قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے۔ ہم نے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو حراست میں لیا ہے۔ یہ کسی کے خلاف انتقام کا جذبہ نہیں ہے، بلکہ انصاف کا آغاز ہے۔‘‘ قابلِ ذکر ہے کہ اولی اور لیکھک کو آج صبح پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے خلاف ’جین زی‘ مظاہروں کے دوران نہتے مظاہرین طلبہ پر گولی چلانے کا حکم دینے کا الزام ہے۔
دریں اثنا نیپال کے سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی اور اس وقت کے وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو آج صبح گرفتار کرنے کے بعد طبی معائنے کے لیے ضلع پرہری کمپلیکس کاٹھمانڈو سے اسپتال لے جایا گیا۔ دونوں کا طبی معائنہ مہاراج گنج شکشن اسپتال میں کیا گیا۔
اولی کو بھکت پور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد اولی کو ضلع پرہری کمپلیکس کاٹھمانڈو لے جایا گیا، جہاں کاٹھمانڈو کے ایس ایس پی رمیش تھاپا پہلے سے موجود تھے۔ رمیش لیکھک کو کاٹھمانڈو میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔
آج تعطیل ہونے کی وجہ سے دونوں کو اتوار کو ضلع عدالت کاٹھمانڈو میں پیش کیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن