
تہران،28مارچ(ہ س)۔اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد اقوامِ متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے نے کہا کہ جمعہ کے اواخر میں ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب حملہ ہوا لیکن اس سے تابکاری لیک یا ری ایکٹر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی ایکس پر پوسٹ کے مطابق ایران نے اطلاع دی کہ پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور اسے کوئی تکنیکی یا ساختی اثر نہیں ہوا۔
آئی اے ای اے نے کہا کہ گذشتہ 10 دنوں کے اندر ایران میں مبینہ حملوں کے سلسلے میں یہ تیسرا واقعہ ہے۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کو کہا کہ اس نے وسطی ایران میں بھاری پانی کے ایک ری ایکٹر اور یورینیم پروسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا لیکن بوشہر کا ذکر نہیں کیا۔آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے ’فوجی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ تحمل‘ پر زور دیا۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس نے اطلاع دی کہ جمعہ کی رات 11:40 پر ایک گولہ پلانٹ کی زمین پر گرا جس کا الزام ’امریکی صیہونی دشمن‘ پر لگایا۔فارس نے مزید کہا کہ کسی جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی۔آئی اے ای اے کے مطابق جنوب مغربی ایران میں بوشہر پلانٹ میں ملک کا واحد فعال جوہری ری ایکٹر ہے اور اسے پہلی بار 2011 میں گرڈ سے منسلک کیا گیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan