
تہران،28مارچ(ہ س)۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی انٹیلی جنس جائزوں سے انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی میزائلوں کا ایک تہائی حصہ تباہ ہو چکا ہے اور ایک تہائی فضائی حملوں کے نتیجے میں نقصان کا شکار ہوا یا زمین کے نیچے دب گیا ہے۔پانچ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس معلومات نے امریکی حملوں میں ایران کے تقریباً ایک تہائی میزائلوں کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے آغاز سے اب تک ایک تہائی میزائلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ وہ تباہ ہوئے یا زیرِ زمین دفن ہو گئے ہیں۔ چار افراد کا کہنا ہے کہ بقیہ ایک تہائی میزائلوں کی صورتحال واضح نہیں ہے لیکن امکان ہے کہ بمباری نے ان میزائلوں کو زمین دوز سرنگوں اور خفیہ ٹھکانوں کے اندر ہی تباہ یا متاثر کر دیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق بیشتر میزائلوں کے ناکارہ ہونے کے باوجود تہران کے پاس اب بھی بڑا ذخیرہ موجود ہو سکتا ہے اور وہ لڑائی رکنے کے بعد دفن شدہ یا متاثرہ میزائلوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے قابل بھی ہو سکتا ہے۔یہ معلومات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعرات کے بیان کے برعکس ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے پاس صرف چند میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ انہوں نے باقی میزائلوں اور ڈرونز سے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لیے مستقبل کے امریکی آپریشنز کو درپیش خطرے کا بھی اعتراف کیا تھا۔
واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات کابینہ کے اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے 99 فیصد میزائل تباہ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صرف ایک فیصد میزائل باقی ہیں اور یہ بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ ایک فیصد کا مطلب ایک میزائل بھی ہو سکتا ہے جو ایک ارب ڈالر مالیت کے جہاز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک رکن سیتھ مولٹن، جو سابق میرین ہیں اور عراق میں خدمات انجام دے چکے ہیں، نے ان معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا لیکن ایران کے میزائلوں کے بارے میں ٹرمپ کے دعووں پر شک کا اظہار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران ہوشیار ہے تو اس نے اپنی کچھ صلاحیتیں محفوظ رکھی ہوں گی اور وہ سب کچھ استعمال نہیں کر رہا بلکہ انتظار کر رہا ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ایران نے زیرِ زمین ٹھکانوں میں کتنے میزائل ذخیرہ کیے تھے اس کا درست تعین کرنا مشکل ہے۔ پیرس میں سائنسز پو یونیورسٹی میں ایرانی میزائل فورسز اور پاسدارانِ انقلاب کی ماہر نکول گرایوسکی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شاید ایرانی صلاحیتوں پر امریکی حملوں کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران شدید بمباری کے باوجود اب بھی بید کانہ فوجی اڈے سے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس اب بھی تقریباً 30 فیصد میزائل صلاحیتیں موجود ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایرانی حکام کے پاس 12 سے زیادہ بڑی زیرِ زمین تنصیبات ہیں جہاں لانچرز اور میزائل رکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ تنصیبات گر چکی ہیں؟
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے ایران کی میزائل صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے کی امریکی صلاحیت پر شک ظاہر کیا ہے کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ سرنگوں میں کتنے میزائل موجود ہیں جو ابھی تک قابل استعمال ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ کیا ہم کبھی درست اعداد و شمار حاصل کر سکیں گے۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 19 مارچ کے بیانات میں ایرانی سرنگوں کے نیٹ ورک سے پیدا ہونے والے چیلنج کا اعتراف کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ایک وسیع ملک ہے۔ حماس کی غزہ میں سرنگوں کی طرح، انہوں نے ہر قسم کی امداد یا معاشی ترقی کو سرنگوں اور میزائلوں پر خرچ کیا ہے۔تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان کا ملک سخت قوت کے ساتھ منظم طریقے سے ان کا تعاقب کر رہا ہے اور نتائج خود بول رہے ہیں۔ انہوں نے تباہ کیے گئے میزائلوں یا ڈرونز کے تناسب کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔یاد رہے امریکہ نے جنگ سے پہلے ایرانی میزائلوں کے ذخیرے کے حجم کے بارے میں اپنے اندازوں کا انکشاف نہیں کیا تھا لیکن اسرائیلی فوج کے مطابق یہ تعداد 2,500 جبکہ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق 6,000 کے لگ بھگ تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan