
رامیشورم، 26 مارچ (ہ س) تمل ناڈو کے رامیشورم بندرگاہ سے بغیر اجازت سمندر میں مچھلی پکڑنے والے سات ماہی گیروں کو سری لنکا کی بحریہ کے اہلکاروں نے جمعرات کی صبح گرفتار کر لیا۔ ان کے پاس سے دو موٹر بوٹس بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ جس سے آس پاس کے ماہی گیروں میں غم و غصہ پھیل گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ آج کئی ماہی گیر بندرگاہ سے پرمٹ لے کر سمندر میں مچھلیاں پکڑنے گئے تھے۔ اس کے بعد سری لنکا کی بحریہ نے نیدونتیوو (ڈیلفٹ دیپ) کے قریب گشت کرتے ہوئے سات ماہی گیروں کو سرحد پار کرنے اور ماہی گیری کے الزام میں گرفتار کیا۔ سری لنکا کی بحریہ نے ان کی دو موٹر بوٹس کو بھی ضبط کر لیا۔ سری لنکن فوج کے اہلکار ساتوں گرفتار ماہی گیروں کو کنگیسن نیول کیمپ لے گئے، جہاں ان سے سرحد پار کرنے اور ماہی گیری کے معاملے کے بارے میں اچھی طرح سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ کیمپ میں پوچھ گچھ کے بعد ماہی گیروں کو منار ضلع کے فشریز ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کرکے جیل بھیجے جانے کا امکان ہے۔
ماہی گیروں کا ذریعہ معاش متاثر ۔
سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو سرحد پار سے ماہی گیری کے الزام میں پکڑے جانے کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ نیدونتیوو کے قریب اس گرفتاری سے تمل ناڈو اور پڈوچیری کے ماہی گیروں میں بڑے پیمانے پر غصہ ہے۔ میری ٹائم باو¿نڈری لائن پر ابتری کے باعث بار بار ایسے واقعات سے ماہی گیروں کا ذریعہ معاش متاثر ہو رہا ہے جس کے مستقل حل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپنی ضبط شدہ کشتیوں کی واپسی کے بغیر، مچھلی کے لیے قرضے لینے والے ماہی گیروں کو مالی تباہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس تازہ واقعہ نے رامیشورم کے ماہی گیروں کے گاو¿ں میں گہرے غم اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی