کانکیر، چھتیس گڑھ میں اے سی ایم کیڈر کے 6 نکسلیوں نے خود سپردگی کی
کانکیر، 26 مارچ (ہ س) – چھتیس گڑھ کے راج نندگاو¿ں-کانکیر بارڈر ڈویژن کے پانچ کیڈر اور ملٹری کمپنی نمبر 5 کی ایک خاتون نکسلائٹ پر مشتمل کل چھ نکسلائٹس نے آج جمعرات کو کانکیر ایس پی کے دفتر میں خودسپردگی کی، اور اپنے ساتھ ایک ایس ایل آررائفل اور دو
نکسل


کانکیر، 26 مارچ (ہ س) – چھتیس گڑھ کے راج نندگاو¿ں-کانکیر بارڈر ڈویژن کے پانچ کیڈر اور ملٹری کمپنی نمبر 5 کی ایک خاتون نکسلائٹ پر مشتمل کل چھ نکسلائٹس نے آج جمعرات کو کانکیر ایس پی کے دفتر میں خودسپردگی کی، اور اپنے ساتھ ایک ایس ایل آررائفل اور دو303 رائفل سرینڈر کردئے۔

اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے، کانکیر کے ایس پی نکھل رکھیچا نے بتایا کہ، کانکیر ضلع کے اندر ایک اہم واقعہ میں، راج نندگاو¿ں-کانکیر بارڈر ڈویژن کے پانچ نکسل کیڈر—خاص طور پر اے سی ایم منگیش پوڈیامی، اے سی ایم گنیش اوئیکے، اے سی ایم راجے، اے سی ایم ہڈمے مرکام (عرف سنیتا)، اور اے سی ایم منگتی جوری اور ملٹری کمپنی-5 کے نکسلائیٹ سوروپا اسینڈی نے تشدد کا راستہ ترک کرکے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان نکسلی کیڈروں نے بحالی کے لیے آگے بڑھتے ہوئے، ایک ایس ایل آر اور دو 303 رائفلوں سمیت کل تین ہتھیاروں کو سونپ دیا۔ ایس پی نے مزید بتایا کہ چھ نکسل کیڈرز جنہوں نے بحالی کا راستہ چنا ہے، خاص طور پر سماجی دھارے میں ان کے دوبارہ انضمام اور ان کے ہتھیاروں کی رسمی حوالگی سے متعلق تفصیلی معلومات کا اشتراک مکمل طریقہ کار کے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت کی خودسپردگی اور بازآبادکاری کی پالیسی سے متاثر ہو کر گزشتہ 26 مہینوں میں 2,700 سے زیادہ نکسل کیڈر مرکزی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس تناظر میں، بستر کے آئی جی سندرراج پٹلنگم نے ایک بار پھر بقیہ ماو¿نواز کیڈروں سے تشدد ترک کرنے اور قومی دھارے میں شامل ہونے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کیڈر پرامن اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے آگے آئیں گے انہیں بحالی کی پالیسی کے تحت ہر قسم کی مدد فراہم کی جائے گی۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande