
بیڑ ممبئی ، 26 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے بیڑ ضلع میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ بدستور سنگین بنا ہوا ہے، جہاں گزشتہ 14 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 305 کسانوں نے اپنی زندگی ختم کر لی ہے، جس سے صورتحال کی سنگینی واضح ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 48 معاملات میں متاثرہ خاندانوں کو امداد کے لیے نااہل قرار دیا گیا، جبکہ 20 کیسز کی رپورٹ ابھی تک زیرِ التوا ہے۔ موجودہ سال کے آغاز سے اب تک 59 کسانوں کی خودکشی درج کی گئی ہے، جن میں گورائی اور آشتی تعلقہ سب سے زیادہ متاثر رہے ہیں، جہاں ہر ایک میں 10 واقعات پیش آئے۔
ذرائع کے مطابق قرض کے بوجھ اور فصل کی ناکامی کے باعث ذہنی دباؤ میں مبتلا کسان انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں، تاہم الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بعض سرکاری اہلکار ایسے معاملات کو “نشے کی حالت میں خودکشی” قرار دے کر رپورٹ درج کر دیتے ہیں۔
اس طرزِ عمل کے باعث کئی متاثرہ خاندان حکومت کی جانب سے دی جانے والی ایک لاکھ روپے کی مالی امداد سے محروم رہ جاتے ہیں، جس پر کسان طبقہ شدید ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔
ضلع کے کسانوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اس سنگین انسانی مسئلے پر انتظامیہ کب مؤثر اقدامات کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کو کب انصاف ملے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے