
نئی دہلی، 26 مارچ (ہ س)۔ چین کے سفیر شو فیئی ہونگ نے جمعرات کو یہاں چوتھےہندوستان-چین یوتھ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے نوجوانوں سے باہمی سمجھ بوجھ، تعاون اور مثبت رویہ اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھوں میں ہے اور باہمی مکالمہ ہی اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے نوجوان پہلے کے مقابلے میں زیادہ عالمی، پراعتماد اور تکنیکی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ثقافتی تبادلوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چینی ڈیجیٹل مواد اور بھارتی یوگ، پکوان اور ثقافت دونوں ممالک کے نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان -چین تعلقات میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ انہوں نے قدیم دور میں ہوین سانگ کے ہندوستان کے سفر، رابندر ناتھ ٹیگور کے چین کے دورے اور آزادی کی جدوجہد کے دوران ڈاکٹر دوارکاناتھ کوٹنیس کی خدمات کی مثال دی۔
سفیر نے تین اہم نکات پر نوجوانوں کی توجہ مبذول کرائی۔پہلا، ایک دوسرے کے بارے میں غیر جانبدار اور متوازن نقطہ نظر اپنانا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بڑھانے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن نوجوانوں کو آزادانہ سوچنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا، انہوں نے باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کی بات کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا۔
تیسرا، انہوں نے عالمی سطح پر کھلے اور جامع نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور چین کو عالمی جنوب کے اہم ممالک کے طور پر مل کر کام کرنا چاہیے اور کثیرجہتی فورم پر تعاون بڑھانا چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات کو دانشمندی سے حل کریں اور تعاون کے نئے راستے تلاش کریں، تاکہ ہندوستان-چین تعلقات کو ایک نئی سمت دی جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد