وزیر ریلوے نے’کوچ‘ نظام کا جائزہ لیا، اے آئی پر مبنی ’حفاظتی‘ پلیٹ فارم پر زور
نئی دہلی، 26 مارچ (ہ س)۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے ہندوستانی ریلوے کے دیسی ساختہ خودکار ٹرین کےحفاظتی نظام ’کوچ“ کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں کوچ کی تیزی سے توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ ٹرینوں کو چلانے کو مزیدمحفوظ اور موثر بنانے پر ز
Railways-Kavach-Expansion


نئی دہلی، 26 مارچ (ہ س)۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے ہندوستانی ریلوے کے دیسی ساختہ خودکار ٹرین کےحفاظتی نظام ’کوچ“ کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں کوچ کی تیزی سے توسیع اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ ٹرینوں کو چلانے کو مزیدمحفوظ اور موثر بنانے پر زور دیا گیا۔ کوچ کے تحت،”سرکشا“ نامی ایک اے آئی پر مبنی مرکزی نگرانی کا پلیٹ فارم بھی تیار کیا جا رہا ہے، جو حقیقی وقت کی نگرانی اورپریڈیکٹیومینٹیننس میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم ٹریفک مانیٹرس کو فوری طور پر غیر معمولی واقعات سے آگاہ کرے گا،جس سے بروقت کارروائی کر کے مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

ریلوے کی وزارت نے جمعرات کو بتایا کہ ریلوے کے ذریعہ تیار کردہ یونیورسل بریکنگ الگورتھم (یوبی اے)کوچ سسٹم کا ایک اہم جزو ہے، جو مختلف مینوفیکچررز کے د رمیان بریکنگ سسٹم کو معیاری بناتا ہے۔ یہ انٹر آپریبلٹی کو یقینی بناتا ہے اور بار بار جانچ کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، بیس لائن سافٹ ویئر میں بہتری، اے آئی پر مبنی ڈیزائن آٹومیشن اور لوکوموٹیو، انٹر لاکنگ سسٹم اور ٹریک مشینوں کے ساتھ بہتر انضمام سے سسٹم کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

اب تک، کوچ سسٹم 3,103 روٹ کلومیٹر پر نصب کیا جا چکا ہے،جبکہ مزید 24,427 روٹ کلومیٹر پر کام جاری ہے۔ ورژن 4.0 کے تحت، اسے دہلی-ممبئی اور دہلی-ہاو¿ڑہ کوریڈورز جیسے اہم کاریڈور پر 1,638 روٹ کلومیٹر پر لاگو کیاجا چکا ہے۔ کوچ کو حال ہی میں پریاگ راج-کانپور سیکشن (دہلی-ہاو¿ڑہ کوریڈور) کے 190 کلومیٹر روٹ پر بھی لاگو کیا گیا ہے۔

ٹریک سائیڈ کی تنصیب فی الحال 7,100 روٹ کلومیٹر پر جاری ہے۔ 8,921 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی گئی ہے جس کی مدد سے 1,183 ٹیلی کام ٹاورز اور 767 اسٹیشنوں پر ڈیٹا سینٹرز نصب ہیں۔ اس کے علاوہ، 4,277 انجنوں کو شیلڈ کیا گیا ہے، جبکہ 8,979 لوکوموٹیوز پر کام جاری ہے۔

وزارت ریلوے اگلے دو برسوں میں کوچ نیٹ ورک کو 9,000 روٹ کلومیٹر تک پھیلانے کا منصوبہ رکھتی ہے، اس کے بعد ہر سال اسے تقریباً 10,000 روٹ کلومیٹر تک پھیلانے کا ہدف ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande