
نوئیڈا، 26 مارچ (ہ س)۔ نوئیڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے افتتاح کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 28 مارچ کو اس کا افتتاح کریں گے۔ انہوں نے چار سال قبل اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔
ہوائی اڈے کی تعمیر کے پہلے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ، یہاں 3.9 کلومیٹر کا رن وے بن کر تیار ہے۔ اس وسیع رن وے پرہوائی جہاز ایک ساتھ ٹیک آف اور لینڈنگ کر سکیں گے۔ 45 میٹر چوڑائی والے رن وے میں آئی ایل ایس ٹیکنالوجی کے جدید ترین سسٹم کیٹتھری کااستعمال کیا جائے گا، جس سے متوازی پروازوں میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
یمنا ایکسپریس وے انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اے سی ای او اور ہوائی اڈے کے نوڈل افسر شیلیندر بھاٹیا نے بتایا کہ فی الحال ملک میں صرف ممبئی اور دہلی ہوائی اڈوں پر متوازی پرواز کی سہولیات ہیں۔ دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے چار رن وے ہیں جو بیک وقت متعدد پروازوں اور لینڈنگ کو سنبھالنے کے قابل ہیں۔ متوازی لینڈنگ یہاں عام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی متوازی پرواز اور لینڈنگ کی سہولیات ہیں۔ ان دونوں کے بعد نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈہ یہ سہولت فراہم کرنے والا ملک کا تیسرا ہوائی اڈہ ہوگا۔
آئی ایل ایس سسٹم ہونے سے خراب موسم میں بھی ہوائی جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگمیں کوئی دقت نہیں آئے گی۔ پروازیں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گھنے دھند، خراب حد نگاہ اور بارش کے دوران بھی ٹیک آف اور لینڈ کر سکیں گی۔ پائلٹ عام طور پر اس ٹیکنالوجی کوتب استعمال کرتے ہیں جب انہیں باہر کچھ نہیں دکھائی دے رہا ہو اور لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر انہیں اس ٹیکنالوجی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے سے فضائی ٹریفک اور مسافروں کا بوجھ زیادہ ہونے پر اسے پوری گنجائش کے ساتھ چلایا جائے گاتو یہاں سے ایک گھنٹے میں 30 طیارے لینڈنگکے ساتھ ٹیک آف بھی کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک رن وے کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد مزید تین مرحلوں میں کام مکمل کیا جائے گا جس کے نتیجے میں کل چھ رن وے بن کر تیار ہوں گے۔ اس ہوائی اڈے کو ایشیا کے سب سے بڑے ہوائی اڈے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔
ہوائی اڈے کی کل تخمینہ لاگت 29,561 کروڑ روپے ہے۔ جیور ہوائی اڈے کے چاروں مراحل 2050 تک مکمل ہونے ہیں۔ پہلے مرحلے کی تعمیری لاگت 4,588 کروڑ، دوسرے مرحلے کی لاگت کی تخمینہ لاگت 5,983 کروڑروپے، تیسرے مرحلے پر 8,415 کروڑ روپے اور چوتھے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 10,575 کروڑ روپے ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد