
رائسین میں 11 سے 13 اپریل تک قومی زرعی میلہ منعقد ہوگا، مرکزی وزیر زراعت نے پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لیا
رائسین، 26 مارچ (ہ س)۔
مرکزی وزیر برائے زراعت و دیہی ترقیات شیوراج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ جدید زرعی میلہ اور تربیتی پروگرام کھیتی کو منافع بخش کاروبار بنانے اور کسانوں کی آمدنی بڑھانے کا ایک مہایگیہ (بڑی کوشش) ہے۔ اس میں سب کی شراکت ضروری ہے۔ یہ میلہ یہاں کی زراعت کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان جمعرات کو مدھیہ پردیش کے رائسین ضلع ہیڈ کوارٹر پر واقع دسہرہ میدان پہنچے تھے۔ وہ آئندہ11 سے 13 اپریل 2026 تک منعقد ہونے والے قومی سطح کے تین روزہ وسیع جدید زرعی میلہ، نمائش اور تربیتی پروگرام کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد حکام سے خطاب کر رہے تھے۔
مرکزی وزیر زراعت نے پروگرام کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز کیا اور جائے وقوعہ کا دورہ کر کے پروگرام کی منصوبہ بندی کے مطابق بیٹھنے کے انتظامات، مختلف سیشنز کے مقامات، اسٹالز اور ٹیکنالوجی کے لائیو مظاہرے وغیرہ کے بارے میں مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر زراعت ایڈل سنگھ کنشانا، وزیر مملکت برائے ماہی گیری (آزادانہ چارج) و ضلع انچارج وزیر نارائن سنگھ پنوار، سانچی کے رکن اسمبلی ڈاکٹر پربھورام چودھری، ضلع پنچایت صدر یشونت مینا سمیت دیگر عوامی نمائندوں اور مرکزی و ریاستی حکومت کے سینئر زرعی حکام اور ضلع انتظامیہ کے افسران کے ساتھ تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔
مرکزی وزیر چوہان نے پروگرام کے مقام پر حکومت ہند کے محکمہ زراعت کے جوائنٹ سکریٹری سنجے اگروال، حکومت مدھیہ پردیش کے محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری نشانت بربڑے، مرکزی محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر (کسان فلاح و بہبود اور توسیع) اویناش لاونیا، ایم پی منڈی بورڈ کے ایم ڈی کمار پروشوتم اور کلکٹر ارون کمار وشوکرما کے ساتھ پروگرام کے انعقاد کے سلسلے میں تفصیلی گفتگو کی۔
مرکزی وزیر چوہان نے حکام کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ یہ انعقاد خطے میں زراعت کی سمت بدلنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ زرعی میلے کے انعقاد کی تمام تیاریاں وقت پر مکمل کی جائیں، کسانوں تک زرعی میلے کے انعقاد اور اس کے مقاصد کی معلومات پہنچنی چاہئیں اور اس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہونی چاہیے۔ کسانوں تک یہ معلومات پہنچنا ضروری ہے کہ یہ میلہ قومی سطح پر منعقد ہو رہا ہے، جس میں کسانوں کے سامنے کھیتی کی مختلف جدید تکنیکوں اور طریقوں کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔
مرکزی وزیر زراعت نے کہا کہ یہ جدید زرعی میلہ یہاں کی زراعت کو ایک نئی سمت دینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی سطح کے زرعی میلے اور تربیت میں نہ صرف مدھیہ پردیش، بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں سے بھی ترقی پسند کسان، زرعی سائنسدان، زرعی آلات بنانے والی کمپنیاں اور زرعی شعبے میں بہتر کام کرنے والی نجی کمپنیاں بھی یہاں آئیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ میلے میں تقریباً 200 سے زائد اسٹالز لگائے جائیں گے، جہاں کسانوں کو معلومات دی جائیں گی اور لائیو مظاہرہ بھی ہوگا۔
چوہان نے کہا کہ کسانوں کو آمدنی بڑھانے کے لیے روایتی کھیتی کے علاوہ پھلوں کی کاشت، پھولوں کی کاشت، سبزیوں کی کاشت، قدرتی کھیتی، مویشی پروری، بکری پالنا، شہد کی مکھیوں کا پالنا وغیرہ اپنانا ہوگا۔ یہاں منعقد ہونے والے میلے میں ان سب کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ کسانوں کو تکنیکی معلومات دینے کے ساتھ ساتھ لائیو مظاہرہ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید زراعت کے کئی نئے طریقے ہیں، جن کا کسانوں کے سامنے مظاہرہ ضروری ہے، تبھی وہ سیکھیں گے اور اپنائیں گے۔ میلے میں جدید بیجوں کی معلومات، طریقہ کاشت، بیماریوں کی شناخت اور علاج، نقلی کھاد یا کیڑے مار ادویات کی پہچان، فصل کٹنے کے بعد اسے محفوظ رکھنے، پیداوار کی قیمت کیسے بڑھائیں، خام مال کی پروسیسنگ وغیرہ جیسی بیج سے لے کر بازار تک کی معلومات کسانوں کو دی جائیں گی اور تکنیکوں کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر زراعت ایڈل سنگھ کنشانہ نے کہا کہ جب ہمارا کسان آگے بڑھے گا تو ملک خوشحال ہوگا اور جب ملک خوشحال ہوگا تو صوبہ خوشحال ہوگا۔ اسی مقصد کے تحت مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کی منشا کے مطابق رائسین میں مرکزی حکومت کی جانب سے یہ قومی سطح کا زرعی میلہ اور تربیتی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس میلے میں ہر شعبے سے کسان شامل ہوں گے، انہیں زرعی سائنسدانوں کے ذریعے کھیتی کی جدید تکنیکوں اور طریقوں کی معلومات اور تربیت دی جائے گی۔ کسانوں کے سامنے ان طریقوں کا مظاہرہ بھی کیا جائے گا۔
ضلع کے انچارج وزیر پنوار نے کہا کہ مرکزی وزیر زراعت چوہان نے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے صوبے میں کھیتی کو منافع بخش کاروبار بنانے کے لیے اہم کام کیے ہیں، جن کے نتیجے میں صوبے کو کئی کرشی کرمن ایوارڈز ملے ہیں۔ اس زرعی میلے اور تربیتی پروگرام میں ضلع کی پوری ٹیم اور انتظامیہ مل کر اسے بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کام کریں گے۔ علاقائی رکن اسمبلی ڈاکٹر پربھورام چودھری نے بھی میلے کے انعقاد کے حوالے سے خطاب کیا۔
حکومت ہند کے محکمہ زراعت کے جوائنٹ سکریٹری سنجے اگروال اور حکومت مدھیہ پردیش کے محکمہ زراعت کے پرنسپل سکریٹری نشانت بربڑے نے اس تین روزہ زرعی میلے اور تربیتی پروگرام کے خاکے کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 10 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کسانوں کے لیے مختلف زرعی تکنیکوں، کھیتی کی اقسام اور جدید زرعی طریقوں کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ یہاں الگ الگ کسانوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق باغبانی، قدرتی کھیتی، انٹیگریٹڈ فارمنگ، پولی ہاوس، نیٹ ہاوس سمیت دیگر مختلف زرعی طریقوں کی معلومات کے لیے سیشنز منعقد ہوں گے۔ اس کے علاوہ مختلف جدید زرعی آلات اور ان کے استعمال سے ہونے والے فوائد وغیرہ کے بارے میں بتایا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن