
پانچویں میں 95.14 اور آٹھویں میں 93.83 فیصد بچے ہوئے کامیاب
بھوپال، 25 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں اسکول تعلیم ڈپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ پیٹرن امتحانات کا نتیجہ بدھ کو جاری کر دیا گیا۔ اس سال پانچویں کے 95.14 فیصد اور آٹھویں کے 93.83 فیصد بچے کامیاب ہوئے ہیں۔ ہر بار کی طرح دونوں جماعتوں میں لڑکوں کے مقابلے طالبات نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
صوبے کے وزیرِ اسکول تعلیم ادے پرتاپ سنگھ نے وزارت (ولبھ بھون) میں ایک پروگرام کے دوران بٹن دبا کر یہ نتائج اعلان کیے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس سال دونوں جماعتوں کا رزلٹ اطمینان بخش رہا ہے اور پچھلے برسوں کے مقابلے معیار میں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔ پانچویں جماعت میں 95.14 فیصد اور آٹھویں جماعت میں 93.83 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ خاص بات یہ رہی کہ اس بار طالبات کی کارکردگی لڑکوں کے مقابلے بہتر رہی ہے اور دیہی علاقوں کے طلبہ نے بھی شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیر ادے پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ پانچویں جماعت میں 96.19 فیصد طالبات اور 94.15 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ وہیں آٹھویں جماعت میں 94.98 فیصد طالبات اور 92.74 فیصد طلبہ کامیاب رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ بیٹیاں تعلیم کے شعبے میں مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔
پانچویں جماعت کے نتائج میں شہڈول ڈویژن نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ اضلاع میں نرسنگھ پور اول رہا۔ اس کے علاوہ ڈنڈوری، بالا گھاٹ، جھابوا اور علی راج پور جیسے اضلاع بھی ٹاپ لسٹ میں شامل رہے۔ آٹھویں جماعت میں اندور ڈویژن نے بازی ماری اور اضلاع میں نرسنگھ پور سرفہرست رہا۔ علی راج پور، ڈنڈوری اور جھابوا جیسے اضلاع نے بھی عمدہ کارکردگی دکھائی۔
اس بار امتحان نتائج دیکھنے کے عمل کو انتہائی جدید اور آسان بنایا گیا ہے۔ طلبہ اور والدین اسٹیٹ ایجوکیشن سینٹر کے پورٹل پر جانے کے علاوہ، ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ کیو آر کوڈ کو اسکین کر کے بھی براہِ راست اپنا رزلٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکول کے پرنسپل بھی پورٹل کے ذریعے اپنے پورے ادارے کی طالب علم وار کارکردگی چیک کر سکیں گے۔
اسٹیٹ ایجوکیشن سینٹر کی سرکاری ویب سائٹ پر رزلٹ جاری ہوتے ہی بھاری ٹریفک دیکھنے کو ملا۔ فی منٹ ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنے نتائج دیکھے۔ اس بار تکنیکی نظام کو مضبوط کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ اور والدین نے بغیر کسی پریشانی کے آسانی سے رزلٹ دیکھا اور ڈاون لوڈ کیا۔
وزیرِ اسکول تعلیم ادے پرتاپ سنگھ نے کہا کہ جو طلبہ کسی مضمون میں ناکام ہوئے ہیں، انہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جلد ہی ضمنی امتحانات منعقد کیے جائیں گے، جس میں طلبہ صرف اسی مضمون کا دوبارہ امتحان دے سکیں گے جس میں وہ ناکام رہے ہیں۔ حکومت کا مقصد طلبہ کو مزید مواقع فراہم کرنا اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سال صوبے کے 1 لاکھ 10 ہزار 699 سرکاری، نجی اسکولوں اور مدرسوں کے تقریباً 23 لاکھ 68 ہزار طلبہ ان امتحانات میں شامل ہوئے۔ ان میں سے 93 ہزار سے زائد اسکول دیہی علاقوں کے تھے، جبکہ 17 ہزار سے زائد شہری علاقوں کے تھے۔ پانچویں جماعت میں تقریباً 12.76 لاکھ اور آٹھویں جماعت میں 10.92 لاکھ طلبہ نے امتحان دیا۔ اسٹیٹ ایجوکیشن سینٹر نے اس بار امتحان کے انعقاد کو شفاف اور ہموار بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال کیا۔ 12 ہزار 943 امتحان مراکز بنائے گئے اور جوابی کاپیوں کی جانچ 322 مراکز پر کی گئی۔ اساتذہ کی جانب سے موبائل ایپ کے ذریعے موقع پر ہی نمبرات درج کیے گئے، جس سے نتیجہ تیزی اور درستگی کے ساتھ تیار ہو سکا۔
وزیر سنگھ نے کہا کہ مدھیہ پردیش تعلیم کے معیار کا تجزیہ کرنے اور بہتری لانے کے معاملے میں ملک میں صفِ اول بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ دیہی علاقوں کے طلبہ کی بہتر کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اب تعلیم کا معیار ہر علاقے میں یکساں طور پر مضبوط ہو رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن