
واشنگٹن،24مارچ(ہ س)۔امریکی انتظامیہ کے دو اہل کاروں نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ بطور ممکنہ شراکت دار، اور شاید مستقبل کے ملکی قائد کے طور پر تعاون کے امکانات پر خاموشی سے غور کر رہی ہے۔ یہ بات امریکی ویب سائٹ ’پولیٹیکو‘نے بتائی۔مذکورہ دونوں اہل کاروں کے مطابق، وائٹ ہاو¿س کے بعض حکام قالیباف کو ایک ایسے عملی شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں جو جنگ کے اگلے مرحلے میں ایران کی قیادت کرنے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاوس ابھی کسی خاص شخصیت کے بارے میں حتمی وابستگی کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ ایسے کئی امیدواروں کو آزمانا چاہتا ہے جو کسی معاہدے کے لیے تیار ہوں۔ ان ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک اہل کار نے مزید کہا کہ قال?باف ایک مضبوط اختیار ہیں، لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر پسندیدہ امیدواروں میں شامل ہیں لیکن ہمیں انہیں آزمانا ہوگا، ہم فیصلہ کرنے میں جلد بازی نہیں کر سکتے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اچانک اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ اعلان اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل کیا گیا جس سے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں مزید شدت آنے کا خدشہ تھا۔ انہوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ دو دنوں میں مشرق وسطیٰ میں دشمنی کے ’حتمی اور جامع حل‘ کے حوالے سے انتہائی اچھے اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پینٹاگان کو ہدایات دے دی گئی ہیں کہ جاری مذاکرات کے نتائج آنے تک حملے مو¿خر کر دیے جائیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو توانائی کی قیمتیں کم کرنے اور اپنے منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی مذاکرات سے متعلق باتیں فوجی منصوبوں کے لیے وقت حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ تناو¿ کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں مگر تہران نے ان کا جواب دیتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اس نے جنگ شروع نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ تناو¿ میں کمی کے حل ہماری بجائے امریکہ کی طرف بھیجے جانے چاہئیں۔
اسی طرح ایک ایرانی اہل کار نے فارس ایجنسی کے مطابق اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کے امریکہ کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ کوئی رابطے نہیں ہیں۔ ادھر قال?باف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی جھوٹی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور اس تعطل سے نکلنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan