’ہم اپنے ضروری مفادات‘ کا تحفظ یقینی بنائیں گے:ٹرمپ کے سیزفائر پر بنجامن نیتن یاھوکا ردعمل
تل ابیب،24مارچ(ہ س)۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ تل ابیب کے ضروری مفادات کا تحفظ کرے گا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ جنگی فتوحات کو ایران
’ہم اپنے ضروری مفادات‘ کا تحفظ یقینی بنائیں گے:ٹرمپ کے سیزفائر پر بنجامن نیتن یاھوکا ردعمل


تل ابیب،24مارچ(ہ س)۔اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ تل ابیب کے ضروری مفادات کا تحفظ کرے گا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ جنگی فتوحات کو ایران کے ساتھ ڈیل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بنجمن نیتن یاھو نے بتایا کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی ہے اور ایران و لبنان پر حملے جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ اس سے قبل بنجامن نیتن یاھو نے کہا تھا کہ تل ابیب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی ’برے معاہدے‘ کی راہ روکے گا۔ یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ تہران ایک تصفیے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ابتدائی مذاکرات ہفتے کی رات سے شروع ہو چکے ہیں۔انہوں نے’اے ایف پی ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ’ایران امن چاہتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے پر راضی ہو گیا ہے‘۔ انہوں نے ایک بار پھر پانچ دن کی مہلت کا اعادہ بھی کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس بار اپنے موقف میں سنجیدہ ہے اور ’ایران کے پاس ایک موقع ہے جسے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے‘۔اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا تھا کہ معاہدے کی شرائط میں ایران کا افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہونا شامل ہے، انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ ایسے اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں جن میں ایران سے ایٹمی مواد کا اخراج شامل ہے۔یہ پیش رفت امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ یہ فیصلہ اس ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا جس سے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں مزید شدت کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande