
واشنگٹن،24مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے مذاکرات کی تردید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کی درخواست پر انتہائی ٹھوس بات چیت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان مذاکرات کے نتائج کے منتظر ہیں۔فلوریڈا میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور تقریباً تمام امور طے پا گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے گذشتہ روز ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کیے جو شام تک جاری رہے اور انتہائی کامیاب رہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ اس معاہدے پر آگے بڑھتے ہیں تو جنگ ختم ہو جائے گی، میرا خیال ہے کہ یہ جنگ کو بڑے پیمانے پر ختم کر دے گا، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ہم دوبارہ حملے شروع کر دیں گے‘۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل بھی ایران کے ساتھ اس معاہدے سے مطمئن ہوگا اور اگر یہ طے پا گیا تو یہ ایران اور خطے کے لیے ایک عظیم شروعات ہوگی، تاہم وہ اس کے حتمی ہونے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی انتظامیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کے مفادات کو مدنظر رکھے ہوئے ہے، خصوصاً جبکہ ان کے کئی ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدے کے لیے بہت بے چین ہے اور واشنگٹن بھی یہی چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ایک میٹنگ ہونی ہے جو شاید فون پر ہو، کیونکہ ایرانی رہنماوں کے لیے کسی ملک پہنچنا مشکل ہے۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ ان سے ملاقات بہت جلد ہوگی کیونکہ امریکہ 5 دن تک مذاکرات جاری رکھے گا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ معاہدے کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ ایران افزودہ یورینیم کے اپنے ذخیرے سے دستبردار ہوگا، اور تہران نے ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایران سے تمام جوہری مواد باہر نکالنے کے ہدف کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔مذاکرات میں اس نکتے پر بھی بات ہوئی کہ ایران میں ایک ایسا بڑا لیڈر ہونا چاہیے جو انتہائی معزز ہو، ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ معاہدے کی شرائط میں ایران کے میزائلوں کے ذخیرے کو بھی محدود کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ امریکی صدر نے ایران پر واضح کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں۔ نئے ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ انہیں قتل کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کیونکہ مذاکرات رہبر کے بجائے ایک سینئر ایرانی عہدیدار سے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ مجتبیٰ کو ایران کا لیڈر تسلیم نہیں کرتے اور شاید ہمیں کوئی ایسا لیڈر مل جائے جیسا ہمیں وینزویلا میں ملا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں کوئی مشترکہ قیادت بھی ہو سکتی ہے۔امریکی صدر نے اچانک اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایرانی پاور پلانٹس پر کسی بھی فوجی حملے کو 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اپنی پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گذشتہ دو روز میں بہت اچھے اور تعمیری مذاکرات ہوئے ہیں۔ انہوں نے حملوں کی معطلی کو جاری بات چیت کی کامیابی سے مشروط کیا ہے۔بعد ازاں ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پانچ دن یا اس سے بھی کم وقت میں ہو سکتا ہے۔ ’اے ایف پی’ کے مطابق انہوں نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ایران کے حوالے سے معاملات بہت اچھے جا رہے ہیں۔اسی دوران باخبر ذرائع نے ویب سائٹ ایکسیس کو بتایا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ثالث دونوں ممالک کے درمیان تمام مسائل حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ترکیہ، مصر اور پاکستان کے اعلیٰ حکام نے ویٹکوف اور عراقچی سے الگ الگ بات چیت کی ہے۔ رائیٹرز کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو بھی ان مذاکرات کے نتائج سے آگاہ کر دیا ہے۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ رابطے کی تردید کی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ممالک کی جانب سے تجاویز سامنے آئی ہیں جن پر تہران کا موقف یہ ہے کہ اس نے جنگ شروع نہیں کی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan