
مدھیہ پردیش کا 4.38 لاکھ کروڑ کا بجٹ معاشی ترقی کی رفتار بڑھائے گا
بھوپال، 22 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کی معیشت (جی ایس ڈی پی) مالی سال 27-2026 میں 18.48 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ جائے گی۔ ریاست کے بجٹ میں کیے گئے انتظامات کو دیکھتے ہوئے اس نمایاں اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رابطہ عامہ افسر سنتوش مشرا نے اتوار کو بتایا کہ سال 26-2025 میں مدھیہ پردیش کی جی ایس ڈی پی 16.48 لاکھ کروڑ روپے رہی، جو تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 4 لاکھ 38 ہزار 317 کروڑ روپے کے بجٹ میں ترقی، سماجی تحفظ اور بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی توسیع کو مرکز میں رکھا ہے۔ حکومت کی کوششوں سے واضح ہے کہ مالی سال کے اختتام پر 44 کروڑ روپے کا ریونیو سرپلس رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ موہن حکومت نے بجٹ میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کو رفتار دینے کے لیے 80 ہزار 266 کروڑ روپے کے سرمایہ کاری اخراجات کی تجویز دی ہے۔ یہ ریاست کی جی ایس ڈی پی کا 4.80 فیصد ہے۔ اس سے ریاست میں صنعتی سرگرمیوں، شہری بنیادی ڈھانچے اور دیہی ترقیاتی منصوبوں کو نئی تحریک ملے گی۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق ترقیاتی اسکیموں کو تیز کرنے کے لیے کئی اہم محکموں کے فنڈز میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ دیہی ترقی کے بجٹ میں 37 فیصد، شہری ترقی اور ہاؤسنگ میں 16 فیصد، بہبودِ خواتین و اطفال میں 26 فیصد، محکمہ مال میں 43 فیصد اور اسکولی تعلیم میں 11 فیصد اضافہ ہوگا۔ آئندہ برس دیہی بنیادی ڈھانچے، شہری سہولیات اور سماجی شعبے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق، ریاستی حکومت نے بجٹ میں زراعت اور کسانوں کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی ہے۔ زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کے لیے 88 ہزار 910 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ غیر بجٹ وسائل کو شامل کرنے پر اس شعبے کے لیے کل تقریباً 1 لاکھ 15 ہزار کروڑ روپے دستیاب ہوں گے۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور زرعی سرگرمیوں کو جدید بنانے میں یہ اقدام میل کا پتھر ثابت ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ریاستی حکومت کی اہم اسکیم ’لاڈلی بہنا یوجنا‘ کے لیے اس بجٹ میں تقریباً 23 ہزار 800 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ وی بی جی رام جی یوجنا کے لیے تقریباً 10 ہزار 400 کروڑ روپے، وزیراعلیٰ کسان کلیان یوجنا کے لیے تقریباً 5 ہزار 500 کروڑ روپے اور نیشنل ہیلتھ مشن کے لیے تقریباً 4 ہزار 600 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ آئندہ سنہستھ کے انعقاد کی تیاریوں کے لیے بھی تقریباً 3 ہزار کروڑ روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے۔
اسی طرح صحت کی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے اس سال 23 ہزار 747 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ وہیں سماجی اور معاشی بہتری سے جڑی اسکیموں کے لیے 1 لاکھ 83 ہزار 708 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے 26 فیصد اور درج فہرست ذات (ایس سی) کے لیے 17 فیصد رقم مقرر ہے۔
بجٹ میں نئی طویل مدتی اسکیموں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ دوارکا یوجنا کے تحت اگلے تین سالوں میں 5 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز ہے۔ سوامتوا یوجنا کے لیے 3 ہزار 800 کروڑ روپے اور یشودا دودھ سپلائی اسکیم کے لیے 700 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جن سے دیہی معیشت اور گلہ بانی کو فروغ ملے گا۔ ریاست کی مالی صورتحال کے مطابق کل ریونیو وصولیاں 3 لاکھ 8 ہزار 703 کروڑ روپے، جبکہ سرمایہ کاری وصولیاں 80 ہزار 694 کروڑ روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
رابطہ عامہ افسر کے مطابق، سال 27-2026 میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، زرعی خود مختاری، خواتین کی فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کی اسکیموں کو تیز کرنے کے ساتھ ریاست کی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر کام ہوگا۔ ترقی اور فلاحی اسکیموں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششوں سے ریاست کی معیشت کو نئی جہت ملے گی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن