
جالنہ ، 22 مارچ (ہ س) مہاراشٹر کے جالنہ سے تعلق رکھنے والے معروف او بی سی رہنما شبیر احمد انصاری کا 22 مارچ 2026 کو انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر تقریباً 75 برس کے درمیان بتائی جا رہی ہے اور وہ گزشتہ 45 برس سے زائد عرصے سے او بی سی، خصوصاً مسلم او بی سی (پسماندہ) طبقے کے حقوق کے لیے سرگرم تھے۔
شبیر احمد انصاری نے 1978 میں ولاس سونونے اور حسن کمال کے ساتھ مل کر “آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن” کی بنیاد رکھی اور بطور بانی صدر طویل عرصے تک اس کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں مہاراشٹر سمیت ملک بھر میں 100 سے زائد اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں اورنگ آباد اور لکھنؤ کی نشستیں نمایاں رہیں۔
ان کی جدوجہد کے نتیجے میں 7 دسمبر 1994 کو مہاراشٹر حکومت نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کو او بی سی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد 57 سے زائد سرکاری احکامات جاری کیے گئے۔ انہوں نے زندگی بھر سماجی انصاف اور ریزرویشن کے لیے کام جاری رکھا۔
شبیر انصاری کا تعلق ایک کسان خاندان سے تھا اور انہوں نے محدود تعلیم کے باوجود پسماندہ مسلم طبقات کو منظم کیا۔ وہ جولاہا، قریشی، نائی، تیلی، مالی اور دیگر پیشہ ور طبقات کو یکجا کر کے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ انہیں اشراف طبقے اور دیگر حلقوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے مقصد پر قائم رہے۔
سیاسی طور پر ان کے تعلقات سینئر او بی سی رہنما چھگن بھجبل اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے بھی قریبی رہے۔ انہوں نے او بی سی ریزرویشن کے مسائل پر بھجبل، وجے وڈیٹیوار اور دیگر قائدین کے ساتھ مل کر آواز اٹھائی اور مراٹھا برادری کو او بی سی زمرے میں شامل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔ معروف فلم اداکار دلیپ کمار سے بھی ان کے قریبی تعلقات تھے، جنہوں نے 1990 میں ان کی تحریک کی حمایت کی اور کئی پروگراموں میں شرکت کی۔ انصاری کے مطابق دلیپ کمار خود کو اس تحریک کا “باغبان” کہتے تھے اور سماجی برابری کے لیے سرگرم رہے۔
ان کی زندگی پر مبنی کتاب “مندل نامہ” بھی شائع ہوئی، جس میں ان کی جدوجہد اور سماجی خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ وہ بغیر کسی ذاتی مفاد کے کام کرنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے اور مختلف سیاسی جماعتوں میں انہیں احترام حاصل تھا۔
ان کے انتقال کے بعد جالنہ، اورنگ آباد، ممبئی اور دیگر علاقوں میں تعزیتی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ چھگن بھجبل اور دیگر او بی سی رہنماؤں نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شبیر احمد انصاری نے اپنی پوری زندگی سماجی انصاف، او بی سی اتحاد اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے لیے وقف رکھی، اور ان کا کام آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ان کی وفات او بی سی تحریک کے لیے بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات کو یاد رکھا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے