رحمانی30 کے طلبہ کا ملک کے بڑے تحقیقی اداروں میں داخلہ — تحقیق کے راستے مضبوط
پٹنہ،21 مارچ (ہ س)۔رحمانی فاو¿نڈیشن کے تعلیمی پروگرام رحمانی30 کے طلبہ، جو مختلف ریاستوں کے مراکز سے تعلق رکھتے ہیں، نے ملک کے ممتاز تحقیقی اداروں میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ ان اداروں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف سائنس ایج
رحمانی30 کے طلبہ کا ملک کے بڑے تحقیقی اداروں میں داخلہ — تحقیق کے راستے مضبوط


پٹنہ،21 مارچ (ہ س)۔رحمانی فاو¿نڈیشن کے تعلیمی پروگرام رحمانی30 کے طلبہ، جو مختلف ریاستوں کے مراکز سے تعلق رکھتے ہیں، نے ملک کے ممتاز تحقیقی اداروں میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ ان اداروں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc)، انڈین انسٹی ٹیوٹس آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IISER) اور انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ (ISI) شامل ہیں۔ یہ کامیابی تحقیق اور تعلیمی برتری کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔رحمانی30 نے ابتدا ہی سے خود کو صرف مسابقتی امتحانات کی تیاری تک محدود نہیں رکھا، بلکہ طلبہ میں گہری سمجھ، سائنسی سوچ اور تحقیق کی طرف مستقل رجحان پیدا کرنے پر توجہ دی ہے۔ یہ سوچ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی (رحمتہ اللہ علیہ) کی رہنمائی سے لی گئی ہے، جنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل کامیابی ایسے علماء، سائنسدانوں اور محققین کی تیاری میں ہے جو معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں۔

امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی قیادت اور حوصلہ افزائی میں طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی اداروں اور تحقیق کے میدان کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی جاتی رہی ہے۔ وقت کے ساتھ اس کوشش کے مسلسل نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے فرمایا:“رحمانی30 کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جو علم اور تحقیق کے میدان میں اپنا حصہ ڈالیں۔ الحمدللہ، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے طلبہ ملک کے بڑے تحقیقی اداروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، مسلسل محنت، رہنمائی اور دعا کے ساتھ یہ سلسلہ مزید مضبوط ہوگا۔”رحمانی30 کی پہلی کامیابی سال 2021 میں ISI میں داخلے کی صورت میں حاصل ہوئی۔ اس کے بعد سے کئی طلبہ نے ملک کے نمایاں اداروں میں داخلہ حاصل کیا ہے۔ یہ ادارے ملک کے سب سے مشکل اور سخت معیار رکھنے والے اداروں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں داخلہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande