راجیہ سبھا کی دوڑ سے پیچھے ہٹے جیتو پٹواری، دگ وجے سنگھ کے نام پر قیاس آرائیاں تیز!
بھوپال، 20 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں آئندہ راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے خود کو راجیہ سبھا کی دوڑ سے الگ کرتے ہوئے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’میرے علاوہ کوئی بھی سات
راجیہ سبھا کی دوڑ سے پیچھے ہٹے جیتو پٹواری


بھوپال، 20 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں آئندہ راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری نے خود کو راجیہ سبھا کی دوڑ سے الگ کرتے ہوئے بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’میرے علاوہ کوئی بھی ساتھی راجیہ سبھا جا سکتا ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کے بعد سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کا نام ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔

بھوپال میں جمعہ کو کتھا واچک موہت ناگر کو کانگریس کی رکنیت دلانے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں پٹواری نے کہا کہ ریاستی صدر کا عہدہ انتہائی ذمہ داری والا ہوتا ہے اور اس میں 24 گھنٹے بھی کم پڑتے ہیں، اس لیے وہ اس ریس میں نہیں ہیں۔

جب ان سے دگ وجے سنگھ کے ممکنہ امیدوار ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہا کہ ’’بالکل ہو سکتے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان ہی کرے گا۔‘‘ حالانکہ، خود دگ وجے سنگھ پہلے تیسری بار راجیہ سبھا نہ جانے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، لیکن پٹواری کے بیان کے بعد ان کے نام کو لے کر قیاس آرائیاں پھر تیز ہو گئی ہیں۔

مدھیہ پردیش میں جون میں خالی ہو رہی راجیہ سبھا سیٹ کو لے کر کانگریس میں مسلسل غور و خوض جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے ذریعے وجے پور کے رکن اسمبلی مکیش ملہوترا کو ووٹنگ کا حق نہ دیے جانے اور دیگر ریاستوں میں ہوئی کراس ووٹنگ کے بعد پارٹی کے اندر اسٹریٹجک تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پٹواری کا بیان ایک اسٹریٹجک اشارہ ہو سکتا ہے، جس میں پارٹی تجربے اور تنظیمی توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں پٹواری نے ریاستی حکومت کو کئی مسائل پر گھیرا:

* مہنگائی: ’’ہر گھر کا چولہا متاثر ہو رہا ہے۔‘‘

* لاڈلی بہنا یوجنا: ’’3000 روپے کا وعدہ کر کے 1500 دینا - یہ فریب ہے۔‘‘

* بے روزگاری: ’’ریاست نوجوانوں کے لیے بے روزگاری کا گڑھ بن گئی ہے۔‘‘

* قرض: ’’مدھیہ پردیش مسلسل قرض میں ڈوب رہا ہے، جس کا اثر نوجوانوں کے مستقبل پر پڑے گا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ریاست میں تعلیم کا معیار گر چکا ہے، اساتذہ کی شدید کمی ہے اور انہیں بار بار امتحان کے نام پر ڈرایا جا رہا ہے۔ پٹواری نے دعویٰ کیا کہ ان کے دورِ اقتدار میں شروع کیا گیا اساتذہ کی ٹریننگ کا نظام اب بند ہو گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران بجلی گل ہو گئی، جس پر پٹواری نے کہا کہ ’’بی جے پی 24 گھنٹے بجلی دینے کی بات کرتی ہے، لیکن حقیقت سب کے سامنے ہے۔ لوگوں سے بھاری بھرکم بل وصول کیے جا رہے ہیں۔‘‘

اس دوران کتھا واچک موہت ناگر کا کانگریس میں شامل ہونا بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ وہیں قبائلی سیاست اور دیگر جماعتوں کی سرگرمی نے اس انتخاب کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande