مغربی بنگال میں آئی -پیک چھاپے ماری کے معاملے کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کر دی
نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی پیک) کے دفتر پر چھاپے ماری کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کی مغربی بنگال حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا
Supreme-Court-WB-IPAC-ED-Raid


نئی دہلی، 18 مارچ (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی پیک) کے دفتر پر چھاپے ماری کے سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کی مغربی بنگال حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ وکلاءشیام دیوان اور کپل سبل نے بدھ کو جسٹس پرشانت کمار مشرا کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اپنے ابتدائی دلائل پیش کیے۔ کیس کی اگلی سماعت 24 مارچ کو ہوگی۔

دراصل، سماعت کی شروعات میں، ریاستی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے شیام دیوان نے سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ای ڈی کی طرف سے داخل کردہ جوابی حلف نامہ پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے وقت دیا جائے ۔ ای ڈی کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے جواب دیا کہ یہ سماعت میں تاخیر کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوابی حلف نامہ چار ہفتے پہلے ہی داخل کیا جا چکا ہے۔ تب شیام دیوان نے کہا کہ ای ڈی کے جوابی حلف نامے میں کئی نئے حقائق شامل کیے گئے ہیں جن پر جواب دینا ضروری ہے۔

سماعت کے دوران، دیوان نے دلیل دی کہ ای ڈی کے پاس آرٹیکل 32 کے تحتعرضی دائر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔اگر ای ڈی کو آرٹیکل 32 کے تحت درخواست دائر کرنے کا اختیار دیا گیا تویہ وفاق کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ تب عدالت نے کہا کہ جب ریاست کی وزیر اعلی ای ڈی کے چھاپے میں چلی جاتی ہیں تو یہ اچھی بات نہیں ہے ۔ کیا ای ڈی کے پاس کوئی قانونی متبادل نہیں ہے۔

اس معاملے میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ سے ای ڈی کی عرضی کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت کے ذریعہ داخل کردہ ایک حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ جب کلکتہ ہائی کورٹ میں اسی طرح کی درخواست زیر التوا ہے تو متوازی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ ای ڈی کے پاس سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے۔ آئی پیک کے دفتر کی تلاشی سے قبل کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ای ڈی پر مراعات یافتہ مواصلات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

ای ڈی کی درخواست پر 15 جنوری کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ریاست کے سینئر پولیس افسران کی مداخلت کے سلسلے میں مغربی بنگال کی حکومت اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا گیاتھا۔ عدالت نے ای ڈی حکام کے خلاف پولیس کی طرف سے درج ایف آئی آر پر بھی روک لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا تھاکہ جمہوریت میں ہرحصہ آزادانہ طور پر کام کر سکے،اس کے لئے معاملے کی تحقیقات ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی بھی مرکزی ایجنسی کو کسی سیاسی جماعت کے انتخابی کام میں مداخلت کا حق نہیں ہے لیکن اگر کوئی مرکزی تفتیشی ایجنسی قانونی طور پر اپنا کام کر رہی ہے تو مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کو سیاسی کام کی آڑ میں تفتیش سے نہیں روکا جا سکتا۔

مغربی بنگال حکومت نے ای ڈی کے سامنے سپریم کورٹ میں کیویٹ داخل کی تھی۔ واضح رہے کہ 8 جنوری کو ای ڈی نے ترنمول کانگریس کی مہم کی ذمہ دار کمپنی آئی پیک کے دفتر اور اس کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا۔ یہ چھاپے کوئلہ گھوٹالے کی تحقیقات کا حصہ تھے۔

اس معاملے میں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے سپریم کورٹ میں ایک نئی عرضی دائر کی ہے جس میں مغربی بنگال پولیس کے ڈی جی پی راجیو کمار کو ہٹانے کی مانگ کی گئی ہے۔ ای ڈی نے مغربی بنگال پولیس کے اعلیٰ افسران بشمول ڈی جی پی راجیو کمار کو معطل کرنے کی مانگ کی ہے۔

ای ڈی کا الزام ہے کہ ان افسران نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ مل کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالی اور ثبوت کی چوری میں مبینہ طور پر مدد کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی پی راجیو کمار پہلے کولکاتا پولیس کمشنر کے طور پر کام کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تھے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande